پولینڈ کے ایک بازار میں فائرنگ، 6 افراد کی موت، 16 زخمی، دو روزہ قومی سوگ کا اعلان
ملک کے وزیر داخلہ مارسن کرونسکی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ شخص دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا اور اس کے خیالات انتہائی شدت پسند اور قوم پرستانہ تھے۔
پولینڈ کے شہر کراکوف میں ہفتے کے روز ایک مصروف بازار چوک پر ایک مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس میں 6 افراد کی موت اور 16 دیگر زخمی ہو گئے۔ پولینڈ کے وزیر دفاع نے اس واقعے کو شہر کے لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق 25 سالہ پولش شہری نے ہفتے کی دوپہر تقریباً 3 بجے (مقامی وقت کے مطابق) شہر کے مرکزی چوک پر خودکار ہتھیار سے فائرنگ کی۔ ملک کے وزیر داخلہ مارسن کرونسکی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ شخص دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا اور اس کے خیالات انتہائی شدت پسند اور قوم پرستانہ تھے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ ان میں سے ایک برطانوی شہری تھا۔ 3 ہلاک شدگان پولینڈ کی خواتین تھیں، جبکہ 2 دیگر کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولینڈ کی حکومت کے ترجمان کے مطابق زخمیوں میں برطانیہ، آسٹریا، جرمنی، پرتگال اور روس کے شہری بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ مشتبہ حملہ آور کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس اہلکار کو 3 گولیاں لگی تھیں۔
ہفتے کی دیر رات پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے بتایا کہ مشتبہ شخص کے گھر سے 2 خواتین اور ایک مرد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تمام افراد مشتبہ شخص کے اہل خانہ کے ارکان ہو سکتے ہیں۔ پولینڈ کے وزیر دفاع ولادیسلاف کوسینیاک کامیش نے فائرنگ کی واردات کو کراکوف کے لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔ کراکوف پولینڈ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور یہاں ہر سال تقریباً ڈیڑھ کروڑ سیاح آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر سیاح شہر کے مرکزی چوک سے ہو کر گزرتے ہیں۔
کراکوف کی شہری ٹرانسپورٹ کمپنی کے مطابق ہفتے کی دوپہر تقریباً 3 بجے ایک ٹرام ڈرائیور نے اطلاع دی کہ مرکزی چوک کے قریب سے گزرتے وقت ایک چلتی کار میں سوار شخص نے اس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ اس واردات میں ٹرام ڈرائیور کے کیبن کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔ ہفتے کی شام حکومت کے ترجمان ایڈم شوپکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کراکوف کی واردات نے پورے پولینڈ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم ٹسک کراکوف کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیر انصاف والڈیمار جوریک نے بھی ایکس پر کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس جرم کے مرتکب شخص کو مکمل جواب دہی کے ساتھ سخت سزا دی جائے۔
پولینڈ کے صدر کارول ناوروتسکی نے کراکوف میں پیش آئے افسوس ناک واقعے کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں متاثرین، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اس سال فروری میں یورو نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پولینڈ میں قانونی طور پر رکھے گئے ہتھیاروں کی تعداد پہلی بار 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ پولیس اعداد و شمار کے مطابق پولینڈ نے 2025 میں ریکارڈ 50700 بندوق لائسنس جاری کیا تھا۔ سال 2025 میں فعال لائسنسوں کی تعداد 2015 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی۔ اس حملے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اتوار اور پیر کے روز پولینڈ میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
