آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ گزر سکیں گے ہندوستان سمیت 4 ممالک کے جہاز، ایران نے پابندیوں سے دی راحت
ایران نے کہا کہ ’ہم نے فی الحال ہندوستان، چین، عراق اور قطر کو آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ان ممالک کے جہاز آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں اور امریکی بھی انہیں نہیں روکتے ہیں‘

مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ہندوستان کے لیے ایک راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد پابندیوں سے ہندوستان، چین، عراق اور قطر کو چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ کے باعث اس اہم سمندری راستے سے تجارت انتہائی مشکل ہو گئی تھی۔ حالانکہ اس فیصلے سے ہندوستانی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم نے ایک انٹرویو میں اس چھوٹ کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انتظام ایران کے ان چاروں ممالک کے ساتھ وابستہ مفادات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ مقدم نے کہا کہ ’’ہم نے فی الحال ہندوستان، چین، عراق اور قطر کو آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ان ممالک کے جہاز آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں اور امریکی بھی انہیں نہیں روکتے ہیں۔‘‘
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہندوستان کو یہ چھوٹ دینے کے پیچھے ایران کو زندگی بچانے والی ادویات کی ضرورت بھی ایک اہم وجہ ہے۔ سخت بین الاقوامی پابندیوں اور جاری جنگ کے باعث ایران کو عالمی مارکیٹ سے ادویات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہندوستان کا دوا سازی کا شعبہ ایران کے لیے ایک اہم سپلائر ہے۔ ہندوستانی جہازوں کو راستہ دینے سے ایران کو ہندوستان سے ضروری سامان اور ادویات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
دوسری جانب چین کے معاملے میں ایران کی حکمت عملی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی ہے۔ چین توانائی اور تجارت کے شعبوں میں ایران کا ایک بڑا شراکت دار ہے اور امریکی دباؤ کے درمیان بیجنگ کی سفارتی حمایت ایران کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان واقع آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ راستہ ایک ضروری ’انرجی لائف لائن‘ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
