’شپنگ کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے‘، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کا بیان
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک اہم بحری ملک ہے اور ہم ایسے بحری خطے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جو آزاد، کھلا، محفوظ اور قوانین پر مبنی ہو۔‘‘
ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی قوانین کے احترام کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ور کہا کہ تجارتی بحری آمد و رفت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز میں جاری تنازعہ کے باعث ہندوستانی جہازوں اور شہریوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے جمعرات (17 ستمبر) کو سلامتی کونسل میں کہا کہ ’’سمندری آمد و رفت کے حقوق پر زبردستی، دھمکیوں، غیر قانونی پابندیوں یا من مانی مداخلت کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک اہم بحری ملک ہے اور ہم ایسے بحری خطے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جو آزاد، کھلا، محفوظ اور قوانین پر مبنی ہو۔‘‘
ہریش نے بحرین کی جانب سے بلائے گئے سلامتی کونسل کے ایک غیر رسمی اجلاس میں مذکوررہ باتیں کہیں۔ یہ اجلاس ’آریا فارمولہ‘ کے تحت بحری سلامتی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس کا نام وینزویلا کے سفارت کار ڈیاگو آریا کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے 1992 میں سلامتی کونسل کی صدارت کرتے ہوئے ایسے اجلاسوں کا آغاز کیا تھا۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ہندوستان کو معاشی نقصان بھی ہوا ہے، جس کی وجہ سے تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی اور عالمی سطح پر پٹرولیم کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ ہریش نے کہا کہ خلیج اور مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا ’’توانائی اور غذائی تحفظ کے معاملے میں دنیا بھر کے خطوں پر اثر پڑتا ہے۔‘‘
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے ان واقعات یا حملوں میں ملوث فریقوں کا نام نہیں لیا، جن میں ایران اور امریکہ کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے کے دیگر ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں ہونے والے تصادم کے دوران ہندوستان کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہندوستان نے اپنے بحری جہازوں کے عملے کے ارکان کی ہلاکت پر ایران اور امریکہ کے سامنے احتجاج درج کرایا ہے اور تہران کے سامنے ہندوستان میں رجسٹرڈ جہاز پر ہوئے حملے پر بھی احتجاج کیا ہے۔ ہریش کے مطابق ہندوستان اپنی بحریہ کو تعینات کر کے خطے کے غیر مستحکم بحری علاقوں میں بحری سلامتی میں اپنا تعاون دے رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیر تک ہندوستانی سیکورٹی کارروائیوں کی مدد سے 449 سے زائد تجارتی جہاز، جن میں تقریباً 20.3 ملین ٹن سامان یا 8.4 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا تیل موجود تھا، خلیج عدن اور بحیرہ احمر سے گزر چکے تھے۔ بحیرہ احمر میں یہ رکاوٹیں حوثی ملیشیا کی جانب سے پیدا کی جا رہی ہیں، جو ایران سے وابستہ یمن کا ایک باغی گروپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ نے سمندری تجارت کی حفاظت کے لیے مارچ میں مغربی بحیرہ عرب میں 11 جہازوں کے ساتھ ’آپریشن اُرجا سُرکشا‘ شروع کیا تھا۔
تنازعہ میں شامل فریقین کی ناکہ بندی کے باعث سینکڑوں ہندوستانی ملاح آبنائے ہرمز میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے حق میں بات کرتے ہوئے ہریش نے کہا کہ ’’ملاح ہماری اجتماعی کوششوں کے مرکز میں ہونے چاہئیں۔ ان کی حفاظت، بروقت محفوظ انخلاء، طبی امداد، عملے کی تبدیلی اور وطن واپسی کے لیے مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ٹیکنالوجی کی ترقی سے پیدا ہونے والے نئے خطرات کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئی دہلی ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، جن میں بغیر عملے کے نظام کے ذریعے حملے، سائبر خطرات اور نیویگیشن و مواصلات میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان چیلنجز سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون، صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال اہم ہوگا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
