سربیا: طلبا تنظیموں کے اتحاد ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے پوتن حامی پی ایم امیدوار ووسک کو ہرایا، 14 سالہ اقتدار کا خاتمہ!

’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے 14 سال سے اقتدار پر قابض ’سربین پروگریسیو پارٹی‘ کو ہرا کر پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت حاصل کی ہے۔ انتخابی نتائج کے رجحانات سامنے آنے کے بعد سابق صدر ووسک نے اپنی شکست قبول کر لی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/other_europe">@other_europe</a></p></div>
i

سربیا میں طلبا تنظیموں کے اتحاد ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے انتخاب میں فتح کا پرچم لہرا دیا ہے۔ روسی صدر ولادمیر پوتن کے قریبی سابق صدر الیکزنڈر ووسک کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار تھے، انھوں نے رواں سال ستمبر ماہ میں ہی صدارتی عہدہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی نتائج سامنے آئے بھی نہیں تھے اور اتوار کے روز رجحانات کو دیکھنے کے بعد ہی ووسک نے اپنی شکست قبول کر لی۔

قابل ذکر ہے کہ طلبا تنظیمیں گزشتہ 2 سالوں سے حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ان کا الزام تھا کہ بدعنوانی اور تاناشاہی کی حکومت چل رہی ہے۔ اب انتخاب میں طلبا تنظیموں کے اتحاد کی فتح ایک بڑے الٹ پھیر کی مانند ہے۔ ووسک کے ذریعہ اعترافِ شکست کے بعد راجدھانی بیلگریڈ سمیت کئی شہروں میں لوگوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سربیا کے پرچم جگہ جگہ لہراتے دیکھے گئے۔ لوگوں نے گاڑی کے ہارن بجا کر اور پٹاخے پھوڑ کر اپنی خوشی ظاہر کی۔ سڑکوں پر نکل کر جشن منانے والوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ دیکھنے کو ملی۔


یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ بدعنوانی مخالف طلبا تحریکوں سے ابھر کر سامنے آئی ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے 14 سال سے اقتدار پر قابض ’سربین پروگریسیو پارٹی‘ کو شکست دے کر پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت حاصل کر لی ہے۔ الیکزنڈر ووسک کی پارٹی 2012 سے سربیا کے اقتدار پر قابض تھی۔ اس انتخاب کے نتیجوں کے ساتھ ہی ملک میں ان کی 14 سالہ طویل بالادستی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ حالانکہ ابھی حتمی نتائج سامنے آنا باقی ہے، لیکن رجحانات نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ووسک نے اپنی شکست ریزلٹ کے اعلان سے پہلے ہی قبول کر لی۔

خود مختار پولنگ ایجنسیوں کے ابتدائی رجحانات کے مطابق ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ کو 52 فیصد ووٹ ملے ہیں، جو اکثریت کے نمبر سے کافی آگے ہے۔ ووسک کے اتحاد ’الیکزنڈر ووسک یونائٹیڈ سربیا‘ کو محض 39.3 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ سربیا کی 250 سیٹوں والی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 126 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ووسک کے اندازے کے مطابق طلبا حامی اتحاد کو 135 سے 140 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے، جبکہ برسراقتدار اتحاد کو صرف 105 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ الیکزنڈر ووسک کے ذریعہ شیئر کیے گئے اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طلبا حامی اتحاد کو تقریباً 22 لاکھ ووٹ ملے ہیں، جبکہ برسراقتدار طبقہ کو تقریباً 17.2 لاکھ ووٹ ہی مل سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔