وینزویلا میں زلزلہ کے 8 دن بعد ملبہ سے زندہ نکلا سیکورٹی گارڈ، مہلوکین کی تعداد 2300 پہنچی
ہرنان ساحلی شہر لا گویرا کے گلیریاس پلایا گرانڈے شاپنگ سنٹر میں نائٹ شفٹ کے سیکورٹی گارڈ تھے۔ زلزلہ آنے کے وقت وہ اپنی سیکورٹی کیبن میں موجود تھے۔ پوری عمارت منہدم ہو گئی لیکن یہ کیبن نہیں ٹوٹا۔

وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے 2 شدید زلزلوں میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 2300 پہنچ چکی ہے اور ریسکیو مہم ہنوز جاری ہے۔ اس قدرتی آفت کے 8 دن بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک میں امید کی نئی شمع روشن کر دی۔ امدادی ٹیموں نے 43 سالہ سیکورٹی گارڈ ہرنان البرٹو گل فلوریس کو ایک منہدم عمارت کے تہہ خانہ سے زندہ نکال لیا۔ وہ گزشتہ 8 دنوں سے ملبہ کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔ امدادی کارکنوں نے جمعرات کی علی الصبح تقریباً 100 گھنٹے تک مسلسل جاری رہنے والے آپریشن کے بعد انہیں بحفاظت باہر نکالا۔ جب انہیں آکسیجن ماسک کے ساتھ اسٹریچر پر باہر لایا گیا تو وہاں موجود لوگوں اور مختلف ممالک سے آئے امدادی کارکنوں نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔ کئی امدادی کارکن خوشی سے ایک دوسرے سے گلے ملے اور اس لمحہ کو معجزہ قرار دیا۔
ہرنان ساحلی شہر لا گویرا کے گالیریاس پلایا گرانڈے شاپنگ سنٹر میں نائٹ شفٹ کے سیکورٹی گارڈ تھے۔ زلزلہ آنے کے وقت وہ اپنے چھوٹے سیکورٹی کیبن میں موجود تھے۔ پوری عمارت منہدم ہو گئی، لیکن ان کا کیبن مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے ان کے ارد گرد ہوا کی ایک چھوٹی سی جگہ باقی رہی، جس سے ان کی جان بچ گئی۔ امدادی کارکنوں نے ہفتہ کے آخر میں سب سے پہلے ان سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد ایک تنگ راستہ کے ذریعہ انہیں مسلسل پانی اور مائع غذا پہنچائی جاتی رہی۔ ملبہ کی غیر مستحکم حالت، مسلسل بارش اور بار بار آنے والے آفٹر شاکس کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے انتہائی احتیاط سے سُرنگ بنا کر انہیں باہر نکالا۔ کوسٹا ریکا ریڈ کراس کی امدادی کارکن منیار کولادو نے بتایا کہ جب پہلی بار ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ زندہ ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ شاید وہ بچ نہ سکیں۔ تاہم امدادی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر انہیں بحفاظت نکال لیا۔
ہرنان کی اہلیہ گوسبی مار گونزالیز نے بتایا کہ کئی دنوں تک انہیں لگا کہ ان کے شوہر اب زندہ نہیں بچیں گے۔ لیکن جب یہ خبر ملی کہ امدادی کارکنوں نے ان سے رابطہ کر لیا ہے تو انہیں امید کی نئی شمع نظر آئی۔ اس جوڑے کے 2 چھوٹے بچے ہیں، جن کی عمریں 8 اور 10 سال ہیں۔ اس آپریشن میں وینزویلا کے علاوہ چلی، کوسٹا ریکا، امریکہ، پرتگال، میکسیکو اور ایل سلواڈور کے ماہر امدادی کارکنوں نے حصہ لیا۔ ٹیلی اسکوپ کیمرے کی مدد سے ہرنان پر مسلسل نظر رکھی گئی اور انہیں بحفاظت باہر نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
اگرچہ ہرنان کا زندہ بچ جانا ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن پورے وینزویلا میں حالات اب بھی نہایت سنگین ہیں۔ 24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے لگاتار 2 زلزلوں نے شمالی وینزویلا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لا گویرا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2,295 افراد ہلاک اور 11 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان امدادی کیمپوں یا کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملبہ سے مسلسل لاشیں نکلنے کے باعث علاقے میں تعفن پھیل گیا ہے اور صحت کا بحران بھی شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔
زلزلہ کے بعد امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کے حوالے سے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی امدادی ٹیموں نے حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر کام کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے وینزویلا کی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی کارروائیاں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر انجام دی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امدادی مہم میں تعاون کے لیے تقریباً 900 امریکی فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی قدرتی آفت کے بعد امداد، بازآبادکاری اور صحت خدمات کی فراہمی اب بھی وینزویلا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
