صبح سویرے نیپال سے افغانستان تک زمین ہل گئی، 36 گھنٹے کے اندر دوسرا زلزلہ

درمیانی شدت کا زلزلہ ضروری ہے کیونکہ اس سے خطرات کم ہوتے ہیں۔ طویل عرصے تک زلزلہ نہ آنے کی وجہ سے زمین کی تہہ کے نیچے جمع ہونے والی توانائی اچانک بڑے زلزلوں کو دعوت دیتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نیپال میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کی معلومات کے مطابق زلزلے کی شدت 3.6 بتائی گئی ہے۔ تاہم نیپال میں آنے والے زلزلے کا اثر ہندوستان میں محسوس نہیں ہوا۔

رات گئے افغانستان کے شہر فیض آباد میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 4.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔


نیپال میں جمعہ کو دیر گئے 6.4 شدت کے زلزلے سے 157 افراد ہلاک اور کم از کم 375 افراد زخمی ہوئے۔ تلاش اور بچاؤ کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ نیپال کے جاجر کوٹ ضلع میں جمعہ کو آنے والے زلزلے سے املاک کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی نیپال میں کئی بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

مغربی نیپال میں جمعہ کو آنے والے شدید زلزلے نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ سائنسدانوں نے اس تحقیق میں پایا ہے کہ تقریباً 500 سالوں سے مغربی نیپال میں زمین کی سطح کے نیچے بے پناہ زلزلہ توانائی جمع ہو رہی ہے۔ اس لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں ری ایکٹر سکیل پر آٹھ یا اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ آنے کا امکان ہے۔ بی بی سی نیپالی سروس نے نیپال کے نیشنل سیسمولوجیکل سینٹر کے سینئر ڈویژنل سیسمولوجسٹ لوک وجے ادھیکاری کے حوالے سے بتایا کہ نیپال میں روزانہ 2 سے زیادہ شدت کے تقریباً 10 زلزلے آتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ درمیانی شدت کا زلزلہ ضروری ہے کیونکہ اس سے خطرات کم ہوتے ہیں۔ طویل عرصے تک زلزلہ نہ آنے کی وجہ سے زمین کی تہہ کے نیچے جمع ہونے والی توانائی اچانک بڑے زلزلوں کو دعوت دیتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔