روس پارلیمانی انتخاب: ڈرون حملوں کے درمیان ہوئی 56 فیصد ووٹنگ، ولادمیر پوتن کی پارٹی ’یونائٹیڈ رشیا‘ نے بنائی سبقت
روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے تک 56.66 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اس انتخاب میں 11 کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
.jpg?rect=1%2C0%2C3966%2C2231&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
روس میں 3 دنوں تک جاری رہنے والے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں صدر ولادمیر پوتن کی پارٹی ’یونائٹیڈ رشیا‘ سب سے آگے ہے۔ یہ فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل پیمانہ پر حملے کے بعد پہلا پارلیمانی انتخاب ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار میں یونائٹیڈ رَشیا کو بڑی برتری حاصل ہوئی ہے۔ انتخابات کے آخری دن یوکرین کی جانب سے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے گئے تھے اور روسی وزارت دفاع نے 1,110 ڈرون مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے تک 56.66 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اس انتخاب میں 11 کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ تقریباً 58 فیصد پولنگ مراکز کی گنتی کے بعد یونائٹیڈ رشیا کو پارٹی فہرست والی نشستوں کے لیے تقریباً 58 فیصد ووٹ ملے۔ وہ زیادہ تر سنگل سیٹ والی نشستوں پر بھی آگے چل رہی تھی۔ اسٹیٹ ڈوما میں کل 450 نشستیں ہیں۔
انتخابات 18 سے 20 ستمبر تک ہوئے۔ اس میں آن لائن یعنی ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ روس نے یوکرین کے اپنے زیر قبضہ ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریزیا اور خیرسون کے کچھ حصوں میں بھی ووٹنگ کرائی۔ کریمیا میں بھی ووٹنگ ہوئی، جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کیا تھا۔ یوکرین ان علاقوں پر روس کے دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔
یونائٹیڈ رشیا کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، اے جسٹ رشیا اور نیو پیپل جیسی پارٹیاں بھی انتخابات میں شامل تھیں۔ یہ پارٹیاں بڑے مسائل پر عام طور پر کریملن کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں یونائٹیڈ رشیا نے 450 میں سے 324 نشستیں جیتی تھیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تازہ انتخابات میں پارٹی کتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ کی مخالفت کرنے والی یابلوکو پارٹی کو اگست میں روس کی سپریم کورٹ نے قومی پارٹی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ جنگ مخالف کئی لیڈران کو جیل بھیج دیا گیا، انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یابلوکو اور کمیونسٹ پارٹی نے کچھ پولنگ مراکز پر اپنے مبصرین کو داخلے کی اجازت نہ دیے جانے کی شکایت بھی کی۔
بہرحال، انتخابات کے آخری دن، یعنی 20 ستمبر کو یوکرین کی جانب سے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے گئے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے 1,600 سے زیادہ ڈرون روکے جانے کی بات کہی۔ ماسکو کے علاقہ میں حملوں کے نتیجے میں 3 افراد کی موت اور ایک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ماسکو میں الیکٹرانک ووٹنگ نظام پر سائبر حملوں کی بھی شکایت کی گئی۔ انتخابی کمیشن نے کہا کہ اس کے باوجود ووٹنگ جاری رہی۔ کچھ اپوزیشن پارٹیوں نے کاغذی بیلٹ فراہم نہ کرنے، مبصرین کو روکنے اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
