روس کا یوکرین پر جیٹ انجن ڈرون اور میزائلوں سے حملہ، ایک ہندوستانی سمیت 12 افراد ہلاک

زیلنسکی نے کہا کہ ’’روس کے حملوں میں بڑی تعداد میں جیٹ انجن والے ڈرون اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ افسوس کی بات ہے کہ رہائشی عمارتوں اور عام شہریوں سے متعلق سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

یوکرین نے پیر (31 اگست) کی شام روسی جیٹ انجن ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے کیے گئے حملوں کی ایک اور لہر کا سامنا کیا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بتایا کہ ایک بار پھر یہ حملے عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ مختلف شہروں میں ہوئے ان حملوں میں مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’روس کے حملوں سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کا کام گزشتہ رات سے ہی کئی شہروں اور علاقوں میں مسلسل جاری ہے۔ صرف کیف اور اس کے آس پاس کے علاقے میں ہی تقریباً 350 امدادی کارکن راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں جیٹ انجن والے ڈرون اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ افسوس کی بات ہے کہ رہائشی عمارتوں اور عام شہریوں سے متعلق سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘


یوکرینی صدر نے بتایا کہ روسی حملوں کے دوران بوریسپل میں ایک عام 5 منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ وہاں سے 50 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ تمام ضروری خدمات موقع پر موجود ہیں۔ کئی تجارتی مراکز بھی حملے کی زد میں آئے۔ شہر میں مجموعی طور پر 4 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔ میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پیر کی شام سے اوڈیسا اور اس کے آس پاس کے علاقے پر بھی گائیڈڈ ایئر بموں اور ڈرون سے حملے جاری ہیں۔ ہزاروں خاندان بجلی سے محروم ہیں اور جلد از جلد بجلی بحال کرنے کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ رومانیہ کے ساتھ سرحد پر واقع ایک سرحدی چوکی کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا۔ برآمدات سے متعلق بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق کیف میں ایک ریلوے ڈپو پر ہوئے حملے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ خیرسان، دونیتسک، زاپوریزیا، خارکیف، چیرنی ہائیو، زائٹامیر، سومی اور نیپرو کے علاقوں پر بھی حملے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جن خاندانوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا ہے، ان کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔


یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس اپنے حملوں کی منصوبہ بندی اس طرح کرتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچے۔ وہ اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب فضائی دفاع کی صلاحیتیں ناکافی ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام ممالک اور شراکت داروں کے شکر گزار ہیں جو ’پَرل‘ اور دو طرفہ امداد کے ذریعے یوکرین کو بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ آنے والے موسم خزاں کے مہینوں میں ایسی امداد میں مزید اضافہ کیا جائے۔ زیلنسکی کے مطابق روسی حملوں میں متاثرین کی تعداد براہ راست اس بات پر منحصر ہے کہ یوکرین کو کتنی نئی امداد ملتی ہے۔ انہوں نے یوکرین کو مزید مضبوط اور باصلاحیت بنانے میں مدد کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔