روس-یوکرین نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو بنایا نشانہ، 15 افراد جاں بحق
ماسکو نے بتایا کہ ہفتے کے روز روس کے قبضے والے زاپوریژیا علاقے میں ہالیڈے کیمپوں پر یوکرین کے حملوں میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف روسی ڈرون حملے میں یوکرین کے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔

روس اور یوکرین مسلسل ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ماسکو نے بتایا کہ ہفتے کے روز روس کے قبضے والے زاپوریژیا علاقے میں ہالیڈے کیمپوں پر یوکرین کے حملوں میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف یوکرین کے شمال مشرقی سومی علاقے کے حکام نے بتایا کہ روسی ڈرون حملے میں وہاں 3 افراد کی موت ہو گئی۔ یہ حملے جمعہ کو کیف کے پاس روس کے ایک بڑے حملے کے بعد ہوئے، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور تقریباً 100 لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملے ایک دوسرے کے خلاف مسلسل ہو رہے حملوں کے سلسلے کا حصہ ہیں، جس سے روس کے اپنے پڑوسی ملک پر 4 سال سے زیادہ عرصے سے جاری حملے کا سفارتی حل نکلنے کی امید کم ہو رہی ہے۔
کیف نے روس کے اندر بڑے اہداف پر حملے کیے ہیں، جس سے وہاں ایندھن کی کمی ہو گئی ہے اور روسی صدر پوتن پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کریملن کی طرف سے مقرر کردہ علاقائی سربراہ یوگینی بالیتسکی نے بتایا کہ زاپوریژیا میں ریزورٹس پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں 4 بچے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرین نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سومی کے علاقائی سربراہ اولیہ گریہوروف نے ہفتے کے روز بتایا کہ روسی ڈرون کے ایک سویلین ٹھکانے سے ٹکرانے کے بعد لگنے والی شدید آگ میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد پرائیویٹ یوکرینی پوسٹل اور کورئیر سروس ’نووا پوشتا‘ کے ڈرائیور تھے۔
روس کے علاقے تیومن کے گورنر الیگزینڈر مور نے بتایا کہ مغربی سائبیریا میں تیومن آئل ریفائنری کے احاطے میں یوکرینی ڈرون حملے سے آگ لگ گئی۔ ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر لکھتے ہوئے زیلنسکی نے تیومن پلانٹ کے ساتھ ساتھ یہکاتیرنبرگ میں ایک لاجسٹکس کی سہولت اور روستوف آن ڈان میں ایندھن اور لبریکنٹ کے گودام پر حملے کی تصدیق کی۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ کے دوران یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون ٹیکنالوجی میں کافی ترقی ہوئی ہے، جس نے روس کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں، کیونکہ اس کے وسیع رقبے کا مکمل تحفظ کرنا آسان نہیں۔ کیف کی افواج نے روسی تیل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے وہاں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور صدر ولادیمیر پوتن کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
