یوکرین کے خلاف جنگ میں روس 47 ممالک کے شہریوں کا کر رہا استعمال، صدر زیلینسکی نے شمار کرائے نام
یوکرینی صدر زیلینسکی نے کہا کہ ہم جنگ کے میدان میں ایسے لوگوں کو بھی مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، جو روسی نہیں ہیں۔ 47 ممالک کے لوگ دھوکہ دہی کی وجہ سے روس پہنچ گئے ہیں۔

یوکرینی صدر ولودمیر زیلینسکی نے روس پر 47 ممالک کے شہریوں کو اپنی فوج میں داخل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ زیلینسکی کے مطابق ماسکو دھوکہ دہی سے یہ کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 81 ویں سیشن میں زیلینسکی نے دوسرے ممالک سے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کو روس-یوکرین جنگ میں شامل ہونے سے روکے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ روس اپنی جنگ میں 47 ممالک کے شہریوں کا استعمال کرتا ہے۔ ان میں گھانا، نیپال، تاجکستان، ہندوستان، یمن، کینیا، زمبابوے، کیوبا، بیلاروس، سوڈان، جنوبی افریقہ اور بہت سے دوسرے ممالک شامل ہیں۔ ہم جنگ کے میدان میں ایسے لوگوں کو بھی مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، جو روسی نہیں ہیں۔ 47 ممالک کے لوگ دھوکہ دہی کی وجہ سے روس پہنچ گئے ہیں۔
یوکرینی صدر نے ان ممالک کے نمائندوں سے بات کی، جن کے شہری ان کے مطابق جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک سے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کریں۔ زیلینسکی نے کہا کہ پوتن ہمیشہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جو انہیں اور زیادہ لوگوں کو مارنے میں مدد کر سکے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کر سکیں۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنا ملک بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ پوتن آپ کو اس جنگ میں نہ گھسیٹ سکیں، ان کے کام کرنے کے دائرے کو محدود کریں، ان کے پیسے کو محدود کریں اور ان کی جنگ کو محدود کریں۔
واضح رہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق روسی فوج نے 227 ہندوستانی شہریوں کو بھرتی کیا تھا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے اس ماہ کے آغاز میں بتایا کہ ان میں سے 139 کو سروس سے آزاد کر دیا گیا ہے، جبکہ 51 کی موت ہو چکی ہے۔ وکرم مصری نے کہا کہ باقی رہ گئے ہندوستانیوں کی رہائی اور انہیں واپس لانے کے لیے نئی دہلی ماسکو کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ زیلینسکی نے روس کی جنگ کے لیے رقم جمع کرنے کی صلاحیت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ زیلینسکی نے روس کی جنگ کے لیے رقم جمع کرنے اور اسے جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو تیل کی صنعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کا مقصد صرف ایندھن کی سپلائی، فیکٹریوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ کیف روس کی جنگ کے لیے آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت کو کم کرنا چاہتا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
