’روس ناٹو ممالک پر ہائبرڈ حملہ کی فراق میں ہے‘، پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے کیا متنبہ
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ ڈرون یا دیگر قسم کے پروجیکٹائل مشرقی محاذ کے ایک یا کئی ممالک کی سرحد میں داخل ہو کر تباہی مچا سکتے ہیں۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک، جن میں پولینڈ بھی شامل ہے، پر ڈرون یا راکٹ کے ذریعہ ’ہائبرڈ حملہ‘ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ٹسک نے ناٹو، یوکرینی اور سی آئی اے سمیت امریکی خفیہ ایجنسیوں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر جمعرات کے روز یہ دعویٰ کیا۔ پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران ٹسک نے کہا کہ روس ان حملوں کو حادثہ یا اتفاقیہ واقعہ قرار دے گا، تاکہ حملے کا شکار ہونے والے رکن ملک کے دفاع کے لیے آگے آنے والے ناٹو ممالک کے حوصلے پست کیے جا سکیں یا کم از کم انہیں کمزور کیا جا سکے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ ڈرون یا دیگر قسم کے پروجیکٹائل مشرقی محاذ کے ایک یا کئی ممالک کی سرحد میں داخل ہو کر تباہی مچا سکتے ہیں۔ ٹسک نے خبردار کیا کہ حملہ کے بعد روس کا سرکاری بیانیہ یہ ہوگا کہ یہ صرف ایک حادثہ ہے اور ناٹو کو کسی جوابی کارروائی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح روس ناٹو کے رکن ممالک کے دفاع کے جذبے کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔
ٹسک کا کہنا ہے کہ روس اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے، کیونکہ وہ تیزی سے جیٹ سے چلنے والے ڈرون کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ نئے قسم کے ڈرون کافی بلندی پر اور بہت تیز رفتار سے پرواز کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضائی دفاعی نظام کے لیے انہیں رڈار پر پکڑنا اور تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی ماہ سے ملنے والی خفیہ اطلاعات کے بعد اب یہ خطرہ انتہائی واضح اور سنگین مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔
ٹسک کے مطابق روس کی توجہ اب یوکرین اور اس کے یورپی پڑوسیوں کے درمیان موجود سرحدی چوکیوں پر حملہ کرنے پر ہے۔ اس کا مقصد یوکرین تک پہنچنے والی امداد اور ترسیل کی لائنوں کو مکمل طور پر متاثر کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتہ پولینڈ-یوکرین سرحد پر ایسے 4 واقعات ہوئے، جبکہ گزشتہ ہفتوں میں مالدووا کی سرحد پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ یوکرین کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے بغیر روس کسی بھی امن مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ روس کو یقین ہے کہ آنے والی سردیاں یوکرین کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور سنگین ثابت ہوں گی۔ گزشتہ موسم سرما میں پولینڈ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے وقت فوری طور پر مدد پہنچائی تھی، لیکن اگر سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا تو وارسا کے لیے امداد بھیجنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق روس کا ہدف یوکرین کی معیشت اور رسد کے نظام کو تباہ کرنا ہے اور جلد ہی یوکرین کے 6 اہم شہروں پر شدید حملوں کا خدشہ ہے۔
ٹسک نے اعلان کیا کہ وہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب یوکرین کا دورہ کریں گے۔ اس اقدام کو روس کے خلاف ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اتوار کو ہی پولینڈ-یوکرین سرحد کے قریب ایک ٹرین پر ہوئے ڈرون حملے میں یورپی رہنما بال بال بچ گئے تھے۔ کیف میں ٹسک صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ نئے ڈرونز سے دفاع کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ سلوواکیہ سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ روس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر بھی بات کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ پولینڈ میں امریکی فوجی اڈہ قائم کرنے کی سمت میں بڑی پیش رفت ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ایک امریکی وفد نے کئی ممکنہ مقامات کا دورہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے اتحاد کے لیے ایک تاریخی قدم ہوگا۔ پولینڈ روسی خطرے کے درمیان اپنی سلامتی کے لیے مستقل امریکی فوجی اڈے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
پولینڈ کے بھاری دفاعی اخراجات اور بڑے پیمانے پر امریکی ہتھیاروں کی خریداری نے ٹرمپ انتظامیہ کو یہاں مستقل فوجی اڈہ بنانے پر غور کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔ تاہم، مئی میں امریکہ نے پولینڈ میں تعینات تقریباً 10,000 فوجیوں میں سے کچھ کو اچانک واپس بلا لیا تھا، جس سے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔ بعد میں دونوں ممالک کے حکام نے واضح کیا کہ یہ واپسی عارضی تھی اور امریکی فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی سے پولینڈ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
