روس نے کیا خبردار، یوکرین میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کو جائز فوجی ہدف کیا جائے گا تصور

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ برطانیہ اور فرانس روس کا سامنا کرنے اور فوجی طور پر شکست دینے کے لیے کثیر ملکی افواج کی تعیناتی کے ذریعے یوکرین میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>روسی صدر ولادمیر پوتن / تصویر: یو این آئی</p></div>
i

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ روس یوکرین میں تعینات کسی بھی غیر ملکی فوجی دستے کو جائز فوجی ہدف تصور کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی تعیناتی سے تنازعہ مزید شدت اختیار کرے گا۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کے مطابق یوکرین میں 9 سے 22 نومبر تک کثیر ملکی افواج کے لیے مجوزہ ’کوالیتسا 26.2‘ فوجی مشق کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے زاخارووا نے ہفتے کے روز مغربی ممالک پر روس کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نظر انداز کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور فرانس روس کا سامنا کرنے اور اسے فوجی طور پر شکست دینے کے لیے کثیر ملکی افواج کی تعیناتی کے ذریعے یوکرین میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ زاخارووا نے کہا کہ ہم ایک بار پھر وضاحت کرتے ہیں کہ یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستوں کی تعیناتی ناقابل قبول ہے، خواہ یہ نام نہاد ممالک کے اتحاد کی سرپرستی میں ہو یا کسی دوسرے گروپ کی سرپرستی میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی فوجی مداخلت سے روس کے لیے سلامتی کے اضافی خطرات پیدا ہوں گے۔ زاخارووا نے کہا کہ مجوزہ تعیناتی سے تنازعہ میں یورپی نیٹو ممالک کی شمولیت مزید بڑھ جائے گی۔


انہوں نے کہا کہ ماسکو خصوصی فوجی آپریشن کے مقاصد حاصل کرکے رہے گا۔ زاخارووا نے یہ بھی کہا کہ یہ فوجی مشقیں ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے سے عین قبل شروع ہوں گی۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کے لیے مذاکرات کی میز پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق یوکرین میں کثیر ملکی افواج کی تشکیل کا اعلان 24 اگست کو کیف میں رضامند ممالک کے اتحاد کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔

اس دوران خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکی، روسی اور یوکرینی مذاکرات کار 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات یوکرین میں امن مذاکرات کے لیے ایک مشکل سال کے اختتام پر ہو رہی ہے۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد یہ امن مذاکرات رک گئے تھے، لیکن ستمبر میں انہیں دوبارہ شروع کیا گیا۔ وٹکوف اور ان کے ساتھی ایلچی جیرڈ کشنر نے مذاکرات کاروں کی حیثیت سے اپنے پہلے دورے کے لیے کیف روانہ ہونے سے قبل ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔