روس نے کیف پر 23 بیلسٹک میزائلیں داغیں، حملوں کو روکنے میں یوکرین ہوا ناکام، 28 افراد کی موت
زیلینسکی نے کہا کہ ’’جب تک پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائلیں اتحادی ممالک کے گوداموں میں پڑی رہیں گی، تب تک روس یوکرین کے رہائشی علاقوں پر ایسے ہی حملے کرتا رہے گا۔‘‘

روس نے ایک بار پھر کیف پر زوردار حملہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خطہ میں 23 بیلسٹک میزائل سمیت 68 میزائلیں اور 351 ڈرون داغی گئی ہیں۔ اس حوالے سے یوکرین نے کہا ہے کہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کی وجہ سے بیلسٹک میزائل نہیں روکی جا سکی ہیں۔ اس حملے میں 28 شہریوں کی موت واقع ہوئی ہے اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی نے نیٹو ممالک سے فوری ایئر ڈیفنس سسٹم اور پیٹریاٹ میزائل دینے کی اپیل کی ہے۔ یوکرین کے افسران کے مطابق یہ ایک ہفتہ کے اندر کیف پر روس کا دوسرا بڑا حملہ تھا۔ اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں 18 افراد کیف شہر میں اور 10 افراد کیف شہر کے دیگر علاقوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
یوکرین کے صدر صدر ولودمیر زیلینسکی نے بتایا کہ ’’روس نے اس حملے میں 68 میزائل اور 351 اٹیک ڈرون داغے، یوکرینی فضائیہ نے 37 میزائلوں اور 326 ڈرون کو مار گرایا یا ہدف سے بھٹکا دیا۔ لیکن 23 بلیسٹک میزائلوں میں سے ایک بھی نہیں روکا جا سکا۔‘‘ زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’’آج دنیا میں ایسے حالات ہونا افسوسناک ہے کہ بیلسٹک میزائلوں سے حفاظت کے لیے کافی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائل دستیاب نہیں ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جب تک پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائلیں اتحادی ممالک کے گوداموں میں پڑی رہیں گی، تب تک روس یوکرین کے رہائشی علاقوں پر ایسے ہی حملے کرتا رہے گا۔
حملے کے بعد کیف میں مختلف مقامات پر کافی تباہی ہوئی ہے۔ 3 کثیر منزلہ عمارتیں منہدم ہو گئیں اور کچھ عمارتوں پر سیدھے میزائلیں گری ہیں۔ شہر میں کئی مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے، جسے ہیلی کاپٹر ندی سے پانی لا کر بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ حملے کے کچھ گھنٹے پہلے زیلینسکی نے وارننگ دی تھی کہ روس کیف پر ایک اور بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ہوئے حملے میں 30 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یوکرین کا الزام ہے کہ روس قصداً رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے فوجی اور توانائی تنصیبات پر حملہ کیا۔
اس درمیان یوکرین نے بھی روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر جوابی کارروائی جاری رکھی ہے۔ یوکرین کی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے روس کی 3 آئل ریفائنری، جن میں اومسک کی سب سے بڑی ریفائنری بھی شامل ہے، یوکرین کی سرحد سے تقریباً 2,414 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اسے اب تک کے طویل ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 625 ڈرون بھیجے، جن میں سے 613 کو مار گرایا گیا۔ زیلینسکی نے ترکیہ کی راجدھانی انقرہ میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل امریکہ اور یورپی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس فیصلے کریں۔ دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے بھی کہا ہے کہ اجلاس میں یوکرین کی فضائی دفاعی ضروریات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے شروع کیے تھے۔ اس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قبضہ کر چکا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
