ریل، اسٹوریج سنٹر اور پائپ لائن کا جال، 5 خلیجی ممالک نے تیار کیے آبنائے ہرمز کے 4 متبادل

سعودی عرب، یو اے ای، عراق، عمان اور کویت نئی تیل پائپ لائن، ریل کوریڈور اور بڑے انرجی اسٹوریج سنٹر بنانے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دنیا میں تیل کی سپلائی کے لیے ’آبنائے ہرمز‘ سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک رہا ہے۔ دہائیوں سے خلیجی ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا تھا۔ لیکن ایران جنگ کے بعد اب خلیجی ممالک اس راستے پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای، عراق، عمان اور کویت نئی تیل پائپ لائن، ریل کوریڈور اور بڑے انرجی اسٹوریج سنٹر بنانے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسا نیٹورک تیار کرنا ہے، جس سے آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں بھی تیل اور دیگر سامان کی سپلائی جاری رہ سکے۔ آئیے ذیل میں جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے 4 متبادل راستے کیا ہیں۔

1. یو اے ای کی نئی ویسٹ-ایسٹ پائپ لائن

ابو ظہبی نے فجیرہ تک نئی ویسٹ ٹو ایسٹ کروڈ پائپ لائن بنانے کا منصوبہ تیز کر دیا ہے۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کے باہر واقع فجیرہ بندرگاہ تک تیل پہنچائے گی۔ اس سے یو اے ای کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت 2027 تک تقریباً دوگنا ہو سکتا ہے۔ یو اے ای ایک ایسی نئی پائپ لائن کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے، جس کے ذریعہ صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات بھی بھیجی جا سکیں گی۔


2. کویت-سعودی عرب-یو اے ای پائپ لائن کوریڈور

کویت، سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بھی نئی پائپ لائن منصوبے پر بات چیت چل رہی ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ کویت کا تیل پائپ لائن کے ذریعہ سعودی عرب یا یو اے ای کی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے۔ اس کے بعد وہاں سے تیل دنیا کے مختلف ممالک کو بھیجا جائے۔ فی الحال اس منصوبے کا حتمی روٹ طے نہیں ہوا ہے۔

3. عراق کے نئے برآمدی راستے

عراق بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ اردن، شام اور ترکیہ کے راستے بحیرہ روم تک پہنچنے والے پائپ لائن کے نئے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ پہلا مجوزہ روٹ بصرہ سے اردن کی عقبہ بندرگاہ تک جائے گا۔ اس کی صلاحیت تقریباً 10 لاکھ بیرل روزانہ بتائی جا رہی ہے۔ دوسرا مجوزہ روٹ بصرہ سے عمان کی دقم بندرگاہ تک جائے گا۔ اس سے عراق کا تیل براہ راست بحیرہ احمر تک پہنچ سکے گا۔ عراق اور ترکیہ کے درمیان موجود کرکوک-جیہان پائپ لائن کو بھی پھر سے فعال کیا جا رہا ہے۔


4. عمان میں اسٹوریج اور ایکسپورٹ ہب

کویت اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے باہر آئل اسٹوریج فیسیلٹی بنانے پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔ عمان اپنی بندرگاہوں کو تیل اور گیس کے بڑے اسٹوریج اور ایکسپورٹ ہب کے طور پر تیار کرنا چاہتا ہے۔ اس سے خلیجی ممالک کو بحران کے وقت ایک متبادل سہولت مل سکے گی۔

واضح رہے کہ نیچرل گیس کے لیے ابھی کسی نئی پائپ لائن کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ خلیجی ممالک کے درمیان طویل عرصے سے مجوزہ ’گلف ریلوے پروجیکٹ‘ کو تیزی سے آگے بڑھانے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس سے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کا کچھ سامان ریل کے ذریعہ بھی بھیجا جا سکے گا۔ قطر سے سعودی عرب، اردن اور مصر تک گیس کوریڈور بنانے بات چیت چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ قطر سے سعودی عرب، اردن اور ترکیہ تک گیس پائپ لائن کا تصور بھی طویل عرصے سے موجود ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں خلیج کی گیس براہ راست یورپ تک پہنچ سکتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ فی الحال سب سے زیادہ بحث ان 4 اہم متبادلات پر ہو رہی ہے، لیکن اس کے علاوہ سعودی عرب اپنی موجودہ ایسٹ-ویسٹ (پائپ لائن) کو توسیع دینے پر غور کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس سے تیل اور گیس کو آبنائے ہرمز کے باہر واقع بندرگاہوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ مستقبل میں خلیجی ممالک کے درمیان نئی پائپ لائن اور ریل کوریڈور پروجیکٹ سامنے آ سکتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔