’سیاست دانوں کو اب بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی‘، نو منتخب برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہیم کا اہم پیغام

اینڈی برنہیم نے کہا کہ ’’گزشتہ ایک دہائی میں بار بار وزیر اعظم تبدیل ہونے سے لوگوں کا سیاست پر بھروسہ کمزور ہوا ہے اور اب رہنماؤں کو بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہیم، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہیم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ملک میں سیاسی استحکام بحال کرنے اور نظام حکومت میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں بار بار وزیر اعظم تبدیل ہونے سے لوگوں کا سیاست پر بھروسہ کمزور ہوا ہے اور اب رہنماؤں کو بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی۔ بکنگھم پیلس سے واپسی کے بعد 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنی پہلی تقریر میں برنہیم نے کہا کہ ’’میں اس بات کو پوری طرح محسوس کرتا ہوں کہ گزشتہ 10 سالوں میں اس سڑک پر حکومت بنانے کے لیے آنے والا میں چھٹا شخص ہوں اور 2016 کے بعد ساتواں وزیر اعظم ہوں یہ خود احتسابی اور نئے عزم کا وقت ہے۔‘‘

اینڈی برنہیم نے کہا کہ ان کی نسل کے سیاست دانوں کو اپنی ذمہ داری بہتر طریقے سے نبھانی ہوگی۔ برطانیہ کو دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ ہم دوبارہ سیاسی استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔ لوگ سیاست سے مایوس ہو چکے ہیں۔ میں ان کی بات سنتا ہوں اور ایمانداری سے تسلیم کرتا ہوں کہ ہم اتنا اچھا کام نہیں کر پائے، جتنا کرنا چاہیے تھاتھا۔ اب ہمیں بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی۔ برنہیم نے اپنی حکومت کو برطانیہ کے لیے سرکٹ بریکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں گزشتہ 40 سالوں کی سب سے بڑی تبدیلیاں نافذ کرے گی۔ برطانیہ کو ایک نئے سیاسی اور اقتصادی ماڈل کی ضرورت ہے۔


1980 کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’’1980 کی دہائی میں لیے گئے کچھ فیصلوں کی وجہ سے سیاسی طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت، اقتصادی کنٹرول کی پرائیویٹائزیشن اور ملک کے کئی صنعتی شعبوں کا زوال ہو گیا، جس کی وجہ سے متعدد علاقے آج بھی پسماندگی سے دوچار ہیں۔ برنہیم نے کہا کہ ان کی حکومت اقتدار کو غیر مرکزی بنائے گی اور فیصلے کرنے کی طاقت ملک کے ہر خطے تک پہنچائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضروری عوامی خدمات کو زیادہ مضبوط عوامی کنٹرول میں لا کر عام لوگوں کے لیے انہیں پھر سے سستا اور کفایتی بنایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ’کاسٹ آف لیونگ‘ بڑھ رہی ہے اور اس سے راحت دینے کے لیے ان کی حکومت منگل سے کئی منصوبوں کا اعلان کرے گی۔ ان منصوبوں کی مالی اعانت کا خاکہ بھی ساتھ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال کے آخر تک ان کی حکومت برطانیہ کے لیے ایک 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کرے گی، جس میں ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کا طویل مدتی روڈ میپ ہوگا۔


برنہیم نے روزگار، تعلیم اور رہائش کو بھی اپنی حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات، نوجوانوں کے لیے ذہنی مینٹل ہیلتھ سپورٹ بڑھانے اور مزید کونسل ہاؤسز بنانے پر زور دیا جائے گا۔ اپنے پہلے انتظامی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے برنہیم نے کہا کہ ’’میں کچھ ہی دیر میں اپنے آفس جا کر اپنی پہلی ہدایت جاری کروں گا، تاکہ برطانیہ میں کھلے آسمان تلے سونے کے مسئلے کو ختم کیا جا سکے۔ میری حکومت کا مقصد نظام حکومت میں درست اقدار اور بہتر معیارات کو قائم کرنا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔