پاکستانی پائلٹ اسرائیل جانے والی پروازوں میں نہیں دیں گے خدمات، ایئر فرانس اور یونائیٹڈ ایئر لائنز نے عائد کی پابندی

اس سختی کی اہم وجہ 30 ستمبر 2026 کو دبئی سے تل ابیب جانے والی ’فلائی دبئی‘ میں پیش آئے واقعے کو مانا جا رہا ہے، کیوں کہ فلائٹ میں عمان کے شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں ہندوستانی پائلٹ پر حملہ کر دیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>طیارہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ایئر فرانس ایئرلائن نے پاکستان کے پائلٹوں اور کیبن کریو (فلائٹ اسٹاف) کو اسرائیل آمد و رفت کرنے والی پروازوں کو اڑانے یا اس میں کام کرنے سے منع کر دیا ہے۔ ایئر فرانس ان ضابطوں پر سختی سے عمل کر رہی ہے، جو 2 ممالک کے درمیان سیاسی و سفارتی تعلقات سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی جن ممالک کے آپس میں سیاسی یا سفارتی تعلقات صحیح نہیں ہیں، ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اب پاکستان اور اسرائیل کے درمیان خراب تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے شہریوں کو اس روٹ پر ڈیوٹی نہیں دی جائے گی۔

 امریکی ایئر لائن یونائیٹڈ ایئر لائنس اور چیک ایئر لائن اسمارٹ ونگس نے بھی ان ضابطوں پر عمل در آمد شروع کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ اٹھ رہے ہیں کہ قومیت کی بنیاد پر لگائی گئی پابندیاں بین الاقوامی ایئر لائن آپریشن کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں۔ اس سختی کی اہم وجہ 30 ستمبر 2026 کو دبئی سے تل ابیب جانے والی ’فلائی دبئی‘ میں پیش آئے واقعے کو مانا جا رہا ہے، کیوں کہ فلائٹ میں عمان کے شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں حملے کیے تھے، جس کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ الزام ہے کہ شریک پائلٹ نے فلائٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہندوستانی کیپٹن پر حملہ کیا تھا۔


عمان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جس کے اسرائیل سے سرکاری یا سیاسی تعلقات نہیں ہیں۔ فرانس کے تحقیقاتی میڈیا ادارے میڈیا پارٹ اور ایوی ایشن انٹیلی جنس کمپنی ’سی ایچ ایوی ایشن‘ نے 13 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹس میں یہ معلومات دی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ایئر فرانس اور یونائیٹڈ ایئرلائنس نے اپنے سبھی پائلٹوں اور کیبن کریو (فلائٹ اسٹاف) کو اس روٹ پر نافذ کی گئی نئی حفاظتی پابندیوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کر دی ہیں۔

ایئر فرانس نے وضاحت کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ طے کی گئی سبھی سیکورٹی شرائط کو مان رہا ہے۔ وہیں یونائیٹڈ ایئر لائنس نے بھی ان سخت ضوابط کو اپنے اسٹاف کی کریو پلاننگ میں شامل کر لیا ہے۔ پائلٹ کی شہریت کے سبب ایتھوپین ایئرلائنس کی پرواز کو واپس لوٹنا پڑا۔ ان سخت قوانین کے نفاذ کا اثر منگل کے روز اس وقت دیکھنے میں آیا، جب اسرائیلی حکام نے ایتھوپین ایئرلائنز کی ایک پرواز کو واپس لوٹنے کا حکم دیا، کیونکہ اس میں انڈونیشیا کا ایک پائلٹ موجود تھا۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق جب یہ حکم جاری کیا گیا، اس وقت طیارے کو اڑان بھرے تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور وہ اب بھی ایتھوپیا کی فضائی حدود میں ہی تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔