امریکہ کے ذریعہ ویزا پر عائد کی گئی پابندی سے پاکستان ہوا پریشان، جلد حالات بہتر ہونے کی کر رہا امید

پاکستان میں خارجہ دفتر کے ترجمان حسین اندرابی نے کہا کہ یہ امریکہ کے داخلی تجزیہ کا حصہ ہے اور پاکستان اس عمل کی جانکاری امریکہ سے حاصل کرنے کے لیے رابطہ کر رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ اور پاکستان کا پرچم</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ نے حال ہی میں 75 ممالک کے خلاف ویزا سے متعلق بڑا قدم اٹھایا تھا، جس نے پاکستان کو پریشان کر دیا ہے۔ دراصل امریکہ نے پاکستان، روس، ایران اور افغانستان سمیت 75 ممالک سے آنے والے درخواست گزاروں کی ویزا پروسیسنگ روک دی ہے۔ اب جب امریکہ نے پاکستان سے آنے والے درخواست گزاروں کی ویزا پروسیسنگ روک دی ہے تو پاکستان نے گڑگڑانا شروع کر دیا ہے۔

مشکل حالات دیکھ کر اب پاکستان ’امید‘ کے بھروسے بیٹھ گیا ہے۔ پاکستان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ویزا سے متعلق معمول کی کارروائی جلد ہی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو امریکہ کی داخلی جانچ (انٹرنل ریویو) کا حصہ سمجھتا ہے اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق جن ممالک پر یہ معطلی نافذ ہوگی، ان میں افغانستان، بنگلہ دیش، ایران، عراق، نیپال، نائجیریا، پاکستان، روس، شام، سوڈان، صومالیہ، یمن سمیت مجموعی طور پر 75 ممالک شامل ہیں۔


پاکستان نے امریکہ کی نئی ویزا پالیسی سے متعلق جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ جلد ہی امیگرنٹ ویزا کا عمل دوبارہ شروع کرے گا۔ پاکستان کے خارجہ دفتر کے مطابق حالیہ ویزا معطلی کو امریکہ کی داخلی جانچ کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس دفتر کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ امریکہ کی داخلی جانچ کا حصہ ہے اور پاکستان اس عمل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے امریکہ سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں یہ امریکی امیگریشن پالیسیوں اور نظام کا ایک جائزہ ہے اور امید ہے کہ امیگریشن ویزا کی معمول کی کارروائی جلد شروع ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ اس معطلی سے ہزاروں پاکستانیوں کے جاری پروجیکٹس کی تکمیل میں تاخیر ہو سکتی ہے، جو ہر سال امریکہ کے لیے سفر، تعلیم یا کام کے منصوبہ جاتی ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ یہ پابندی پبلک چارج ضابطے سے جڑی ہے، جو یہ جانچ کرتا ہے کہ مہاجرین امریکہ میں سرکاری امداد پر انحصار کرتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ ویزا خدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے، تاہم اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جانچ مکمل ہونے پر تمام ممالک کو مطلع کر دیا جائے گا۔


امریکہ نے ان ممالک کے امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ 21 جنوری سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان ممالک کے بہت سے مہاجرین اکثر سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک یہ یقینی نہ ہو جائے کہ نئے مہاجرین امریکی عوام سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں رہنے والی ایشیائی نژاد آبادی میں پاکستانی امریکی ساتویں سب سے بڑی تعداد میں ہیں۔ وہ امریکہ کی مجموعی ایشیائی آبادی کا تقریباً 3 فیصد حصہ ہیں۔

امریکی خارجہ دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں امریکہ نے 6 لاکھ سے زائد امیگرینٹ ویزے جاری کیے۔ ان میں سے زیادہ تر ویزے امریکی شہریوں یا موجودہ گرین کارڈ ہولڈرز کے قریبی رشتہ داروں کو ملے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ان درجنوں ممالک کو متاثر کرے گا جن کے شہری امریکہ پہنچنے کے بعد اکثر سرکاری امداد پر انحصار کر لیتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔