عمران خان کی پارٹی کے احتجاج کو روکنے کے لیے ایک ارب روپے خرچ کرے گا پاکستان! اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ
بدعنوانی کے ایک معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد عمران خان کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فی الحال وہ راولپنڈی کی ہائی سیکورٹی اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔

جیل میں بند پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے راجدھانی اسلام آباد میں مجوزہ احتجاج کو 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کر دیا ہے۔ احتجاج کی تاریخ ایک ہفتہ آگے بڑھنے سے پاکستانی حکومت کے سیکورٹی اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کا اہم مطالبہ اپنے بانی عمران خان کی رہائی ہے۔
واضح رہے کہ 73 سالہ عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔ بدعنوانی کے ایک معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ فی الحال وہ راولپنڈی کی ہائی سیکورٹی اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔ مجوزہ احتجاج کو روکنے لیے وفاقی حکومت نے سڑکوں کو بند کرنے اور سیکورٹی انتظام مضبوط کرنے کے لیے سینکڑوں شپنگ کنٹینر منگوائے تھے۔ حالانکہ پی ٹی آئی نے احتجاج کو ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کر دیا۔ ایسے میں حکومت کو احتجاج شروع ہونے تک مزید ایک ہفتہ تک سیکورٹی انتظامات برقرار رکھنے ہوں گے۔ ’ڈان‘ اخبار کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے راجدھانی پولیس نے 82 کروڑ پاکستانی روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب تاریخ بڑھنے کی وجہ سے یہ خرچ دوگنا ہو کر ایک ارب پاکستانی روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
احتجاج کے پہلے اعلان کے بعد راجدھانی پولیس نے پنجاب پولیس کی طرح تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ پولیس نے شپنگ کنٹینروں کے کے کرایے، پنجاب اور سندھ سے آنے والے پولیس اہلکاروں کے ٹھہرنے اور کھانے کے لیے 82 کروڑ روپے مانگے تھے۔ یہ رقم ایک ہفتہ کے لیے تھی۔ آل پاکستان گڈز الائنس کے صدر نثار حسین جعفری کے مطابق شروع میں 40 فیٹ کے کنٹینر کے لیے یومیہ 40 ہزار پاکستانی روپے اور 20 فیٹ کے کنٹینر کے لیے 20 ہزار روپے کرائے مانگے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق 1550 کنٹینروں کا یومیہ کرایہ 4.65 کروڑ روپے، ایک ہفتہ کا 32.55 کروڑ روپے اور 2 ہفتہ کا 65.1 کروڑ روپے ہوگا۔
پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار اور سندھ سے 2 ہزار پولیس اہلکاروں کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ پولیس کے 2 ہزار جوان راجدھانی پہنچ چکے ہیں۔ انہیں 3 وقت کا کھانا دیا جا رہا ہے، جس پر روزانہ 12 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ایک ہفتہ کا خرچ 84 لاکھ اور 2 ہفتہ کا 1.68 کروڑ روپے ہوگا۔ پنجاب پولیس کے 16 ہزار اہلکارں پر مشتمل دستے کے اب تک اسلام آباد پہنچنے کی اطلاع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے لیے 70 کوسٹر، 30 ڈبل کیبن گاڑیوں اور بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ پولیس نے 13 ہوٹلوں میں 246 افسران کے لیے 175 کمرے بھی بک کرائے ہیں۔
اس دوران پاکستانی افسران نے مجوزہ مارچ سے قبل اسلام آباد میں 2 ماہ کے لیے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت راجدھانی میں 5 یا اس سے زائد لوگوں کے جمع ہونے، جلوس، ریلی اور احتجاج پر روک ہے۔ یہ پابندی ہائی اسیکورٹی ریڈ زون سمیت پورے راجدھانی کے علاقے میں نافذ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
