پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، 11 معصوم بچوں سمیت 13 جاں بحق

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی جانب سے افغانستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور صوبہ کنڑ، خوست اور پکتیکا میں بچوں و خواتین کی ہلاکت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستان اور افغانستان کا قومی پرچم</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ رات پاکستانی فوج کے جنگی طیاروں نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاکستانی فوج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں واقع عام شہریوں کے گھروں کو ہدف بنا کر شدید بمباری کی ہے۔ اس فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستانی حملہ آور فوج نے کل رات ایک بار پھر افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے افغانستان کے 3 اہم صوبوں کنڑ، خوست اور پکتیکا میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی گئی، جس سے کئی گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس غیر انسانی جرم اور حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘


اس حملے میں جان و مال کا شدید نقصان ہوا ہے۔ بمباری میں مجموعی طور پر 13 لوگ مارے گئے ہیں، جنہیں افغان انتظامیہ نے شہید قرار دیا ہے۔ مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ اس حملے میں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک ضعیف شخص جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حملے میں 14 لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں کئی لوگوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حملے کے بعد کی کچھ دردناک تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں متاثرہ بچوں کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے افغانستانی فضائی حدود کی پاکستان کی جانب سے خلاف ورزی اور صوبہ کنڑ، خوست اور پکتیکا میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق صدر نے شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان اپنی غیر دانشمندانہ پالیسیوں اور خطے میں دشمنانہ اقدامات کے نتائج بھگت رہا ہے، اور اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ان پالیسیوں پر قائم رہ کر اور ان پر عمل کر کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف جنگ اور تباہی کی پالیسی ترک کرے اور اس کے بجائے اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب باہمی روابط کو اختیار کرے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔