’آپریشن تھنڈر‘ نے امریکی بحریہ کو بنا دیا نابینا، ایران نے بحرین میں موجود نویگیشن سسٹم کو اڑانے کا کیا دعویٰ

ایرانی فوج کے ایک شعبہ کا کہنا ہے کہ ’عرش‘ نامی جدید ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایئر بیس بحرین میں موجود ہے، جو کہ امریکی فوج کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>میزائل-ڈرون، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں ایک اہم امریکی فوجی اڈہ پر کامیاب حملہ کیا ہے۔ تہران کے مطابق یہ حملہ ’آپریشن تھنڈر‘ کے تحت کیا گیا ہے۔ دراصل امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر بحرین میں ہے، اس لیے ایران کا دعویٰ عالمی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ حالانکہ امریکہ نے ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جنوبی ایران میں آئی آر جی سی کے درجنوں ٹھکانوں پر جوابی حملوں کا ذکر کیا ہے، جس سے حالات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بحرین، اردن اور ایران کے کئی علاقوں میں حملوں کی خبروں نے پورے خطہ میں جنگ کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ جو دعویٰ ایران نے کیا ہے، وہ محض فوجی دعویٰ نہیں ہے بلکہ طویل مدت سے جاری امریکہ-ایران کشیدگی کا نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔


ایرانی فوج کے ایک شعبہ کا کہنا ہے کہ ’عرش‘ نامی جدید ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایئر بیس بحرین میں موجود ہے، جو کہ امریکی فوج کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ حملہ میں بجلی جنریٹر، نیویگیشن سسٹم اور ایڈمنسٹریٹو امدادی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کچھ رپورٹس اور سوشل میڈیا میں اس حملہ کو ’امریکی بحریہ کو نابینا کر دینے‘ اور نیویگیشن سسٹم کو تباہ کرنے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اصل ایرانی بیان میں عرش ڈرون کے ذریعہ ان اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ایران اسے حالیہ امریکی حملوں کا جواب قرار دے رہا ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید دفاعی نظام اور مضبوط سیکورٹی کے باوجود اس کے ڈرون کامیاب رہے۔ شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو امریکی جاسوسی طیاروں کا اہم مرکز اور ہیلی کاپٹر و ڈرون رکھ رکھاؤ کا بڑا مرکز بتایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ’آپریشن تھنڈر‘ (یا تھنڈر بولٹ) کے 26ویں مرحلہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایرانی فوج اور آئی آر جی سی نے بحرین، اردن اور کویت کے امریکی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے کئی دعوے کیے تھے۔ ان دعووں میں ایندھن ٹینک، گودام، بیرک اور رڈار سسٹم کو نشانہ بنانے کی بات کہی جاتی رہی ہے۔ اس تعلق سے امریکہ یا بحرین نے کبھی بھی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔


تازہ ایرانی دعویٰ پر امریکہ نے براہ راست کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ سینٹ کام نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں آئی آر جی سی کے کئی ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، لیکن بڑے نقصانات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل ذخیرہ اور ڈرون ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف ایران مستقل اس خطہ میں امریکی فوج کی موجودگی کو غیر قانونی بتاتے ہوئے جوابی کارروائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ تعینات ہے، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سیکورٹی میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ یہاں کسی بھی بڑی جنگ کا اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ اس درمیان اردن اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی حملوں کی خبریں آ رہی ہیں، جس سے علاقے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ کئی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ دونوں فریقین محدود حملوں تک خود کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی غلط اندازہ بڑے جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔