فلائی دبئی واقعہ: شریک پائلٹ الحمامی کی وابستگی اخوان المسلمین سے تھی، متحدہ عرب امارات کی تحقیقات میں نیا انکشاف
متحدہ عرب امارات کی تحقیقات کے مطابق 2017 میں الحمامی نے انتہا پسندانہ لٹریچر پڑھنا اور آن لائن مواد دیکھنا شروع کیا، جس میں دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کے طریقوں کی وضاحت کی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حماد سیف الشامسی نے فلائی دبئی کی پرواز کے واقعہ سے متعلق نیا انکشاف کیا ہے۔ ستمبر 2026 میں دبئی سے تل ابیب جا رہی اس پرواز میں عمانی معاون پائلٹ ہمام الحمامی پر الزام ہے کہ انہوں نے طیارے کا کنٹرول حاصل کر کے اسرائیل کے بین گورین ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل پر خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مسافروں اور عملے نے بروقت انہیں روک لیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ان کی انتہا پسندانہ سوچ میں ابتدائی تبدیلی آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران آئی۔
الحمامی 2015 سے 2017 تک میلبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی تحقیقات کے مطابق 2017 میں انہوں نے انتہا پسندانہ لٹریچر پڑھنا اور آن لائن مواد دیکھنا شروع کیا، جس میں دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کے طریقوں کی وضاحت کی گئی تھی۔ وہ آر ایم آئی ٹی سے وابستہ ایک مسجد میں جاتے تھے، جہاں ان کا تعارف ’مائی سنٹر‘ نامی مرکز سے وابستہ لوگوں سے ہوا۔ ان کے بیان کے مطابق یہ مرکز ابو حمزہ نامی ایک لبنانی شخص چلاتا تھا۔ اسے ’مسلم برادرہڈ‘ یعنی اخوان المسلمین سے وابستہ ایک ادارے کی حمایت حاصل تھی۔ ان دعووں کی ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ اس دوران ان کی سوچ میں تشدد اور دہشت گردی کی طرف جھکاؤ واضح طور پر بڑھ گیا۔
الحمامی نے اعتراف کیا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے متاثر ہوکر انہوں نے پائلٹ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمان ایئر، رائل ایئر مراکش اور پھر فلائی دبئی میں کام کرتے ہوئے انہوں نے پہلے 2 مرتبہ تل ابیب کی پروازیں بھریں تاکہ راستے اور ایئرپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ تیسری پرواز کے دوران منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحقیقات میں کہا گیا کہ انہوں نے ذہنی اور جسمانی تیاری بھی کی تھی۔
الحمامی کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح بعض مقامات پر انتہا پسندانہ نظریات نوجوانوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا جیسے ملک میں تعلیم کے دوران بیرونی اثرات کسی شخص کی سوچ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ’مسلم برادرہڈ‘ جیسے نظریات سے وابستہ ہونے کے دعووں پر توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ یہ طویل عرصے تک پوشیدہ رہ کر خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ ایئرلائن کی سیکورٹی جانچ کے دوران ایسے رجحانات کا پتا نہیں چل سکا، جو نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ آسٹریلوی ایجنسیاں بھی اب وہاں اس کی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ یاد دلاتا ہے کہ نفرت پھیلانے والے مبلغین اور انتہا پسندانہ مواد معاشرے میں تشدد کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ بیداری، سخت اسکریننگ اور انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
