’جوہری معاملہ پر بات چیت کو پراپرٹی ڈیلنگ سمجھ لیا گیا‘، ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کو بنایا ہدف تنقید

ایران مستقل مشرق وسطیٰ میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی قونصلیٹ کو ہدف بنایا گیا ہے، سی آئی اے اسٹیشن بھی ایرانی حملہ کی زد میں آیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں پر ایرانی حملوں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ کچھ ممالک میں تو امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوراً علاقہ چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایران جنگ میں اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کو اس بات کے لیے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے کہ انھوں نے بات چیت کی میز پر بیٹھ کر غلط طریقے سے جنگ شروع کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس معاملہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے ٹرمپ کے طریقۂ کار پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔

عراقچی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب جوہری معاملوں جیسی حساس بات چیت کو پراپرٹی ڈیلنگ کی طرح سمجھا جاتا ہے، اور جب بڑے بڑے جھوٹ حقیقت کو ڈھانپ لیتے ہیں، تو غیر حقیقی امیدیں کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدلہ کے جذبہ سے مذاکرہ کی میز پر بم گرائے جاتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے سفارت کاری اور انھیں منتخب کرنے والے امریکیوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔


ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ جس انداز میں جوہری معاملہ پر بات کر رہے تھے، اس سے ایران خوش نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد ایران نے اسرائیلی شہروں پر حملہ تو کیا ہی ہے، خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں کو خاص طور سے ڈرون و میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں امریکی قونصلیٹ کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جہاں دھماکہ کے بعد سفارت خانہ میں آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ سی آئی اے اسٹیشن بھی ایرانی حملے کی زد میں آیا ہے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر امریکہ نے کہا ہے کہ جتنا بھی اسٹاف نان-ایمرجنسی والا ہے، وہ سبھی سعودی عرب اور عمان چھوڑ دیں۔ ایران نے قطر پر 2 بیلسٹک میزائلیں داغی ہیں۔ ایک میزائل الادید امریکی بیس پر گری ہے۔ قطر کی وزارت دفاع نے آفیشیل بیان جاری کر اس کی تصدیق بھی کی ہے۔

اس درمیان مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں بھی زوروں پر جاری ہیں۔ علی خامنہ ای کو بروز جمعہ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ تدفین کی رسومات انجام دیے جانے کے بعد علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایکشن میں نظر آئیں گے۔ انھیں ایران کا نیا سپریم لیڈر بنائے جانے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، لیکن ایران نے اس کی تردید کی ہے۔ مجتبیٰ تقریباً 2 سالوں سے اقتدار سنبھالنے کی ٹریننگ لے رہے تھے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد ہی انھیں سپریم لیڈر بنایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے متنبہ کیا ہے کہ جو بھی سپریم لیڈر بنے گا، وہ مارا جائے گا۔


بہرحال، میڈیا رپورٹس کے مطابق آج رات سے علی خامنہ ای کا آخری دیدار لوگوں کو کرایا جائے گا۔ تہران کے امام خمیلی مصلیٰ میں ان کا جسد خاکی آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جہاں جمعہ تک لوگ انھیں دیکھ سکیں گے۔ پھر مشہد میں انھیں دفن کیا جائے گا۔ مشہد وہی جگہ ہے جہاں علی خامنہ ای کی پیدائش ہوئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔