اب ’بارکلیز‘ بینک میں چھنٹنی کا منصوبہ، تقریباً 5000 ملازمین کی لسٹ تیار!
’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور ایکسس بینک میں مالی سال 26-2025 کے دوران مجموعی طور پر 13,000 سے زیادہ ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے۔

برطانوی بینک ’بارکلیز‘ نے بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھنٹنی کا منصوبہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنی عالمی افرادی قوت کے ایک بڑے حصہ کو کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خودکار نظام اور اخراجات میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے بارکلیز نے اس سال کے آخر تک 5,000 ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کے لیے فہرست تیار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
برطانوی بینک بارکلیز ایک کثیر ملکی بینک اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے، جو دنیا کے کئی ممالک میں کاروبار کرتی ہے۔ اب اس نے اپنی عالمی افرادی قوت کے تقریباً 5 فیصد حصے کو کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے تحت تقریباً 1,000 ملازمتوں پر پہلے ہی خطرہ منڈلا رہا ہے، جبکہ 2026 کے آخر تک مزید 4,000 ملازمین کی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ بینک کی جانب سے منصوبہ بند تقریباً 60 فیصد چھنٹنی کا سب سے زیادہ اثر ڈیولپرز سمیت معاون خدمات سے وابستہ شعبوں پر پڑے گا۔
بارکلیز نے سال کے آخر تک بڑے پیمانے پر چھنٹنی کی تیاری کی وجوہات بتاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خودکار نظام اور اخراجات میں کمی کا حوالہ دیا ہے۔ یہ عوامل بینکنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی نوعیت کو تبدیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بینک کو امید ہے کہ اس اقدام سے بڑے پیمانے پر اخراجات بچانے، ٹیکنالوجی کو جدید بنانے اور اے آئی کے ذریعے کارکردگی بڑھانے میں مدد ملے گی۔
بارکلیز واحد بینک نہیں ہے جو بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھنٹنی کا اعلان کر رہا ہے۔ اس سے پہلے مئی میں ’اسٹینڈرڈ چارٹرڈ‘ نے کہا تھا کہ اس نے 2030 تک دنیا بھر میں 7,000 سے زیادہ ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مارچ میں خبریں آئی تھیں کہ ’ایچ ایس بی سی‘ تقریباً 20,000 ملازمین کو ملازمت سے نکالنے پر غور کر رہا ہے۔ جولائی میں ویزا نے تقریباً 2,600 ملازمتیں، یعنی اپنی عالمی افرادی قوت کا 7 فیصد حصہ کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عالمی بینکنگ نظام میں آنے والی یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ مالیاتی خدمات کا شعبہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خودکار نظام کی وجہ سے معمول کی کارروائیوں اور انتظامی کاموں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جب کہ ٹیکنالوجی، سائبر سیکورٹی، ڈیٹا کے تجزیے اور صارفین سے براہ راست رابطے سے متعلق ملازمتوں کی مانگ بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، اب تک دستیاب اعداد و شمار سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہر ملازمت ختم ہوئی ہے۔
ہندوستانی بینکوں میں بھی ایک مختلف صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور ایکسس بینک میں مالی سال 26-2025 کے دوران مجموعی طور پر 13,000 سے زیادہ ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک کے ملازمین کی تعداد میں 6,633، ایچ ڈی ایف سی بینک میں 3,343 اور ایکسس بینک میں تقریباً 3,400 کی کمی آئی ہے۔ حالانکہ حکام نے اس کے لیے بڑے پیمانے پر چھنٹنی کے بجائے ملازمین کے خود ملازمت چھوڑنے، ضرورت کے مطابق محدود بھرتی، ملازمین کو دوسرے شعبوں میں تعینات کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ کارکردگی بہتر بنانے جیسی وجوہات کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
