مذاکرات جاری رہنے تک امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے

مذاکرات جاری رہنے تک امریکہ اور ایران نے تمام فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے ۔ اسے اعتماد کی بحالی اور قطر میں امن عمل کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا  ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

تازہ ترین ڈیل کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندے منگل کو قطر میں اعلیٰ سطحی ملاقات کریں گے۔ ملاقات  کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی میں اضافے کے بعد طے پانے والے نازک امن معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔

آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار بحری جہاز پر ایرانی حملے کے بعد تنازعہ بڑھ گیا۔ امریکہ نے 24 گھنٹوں کے اندر دو بار ایرانی فوجی مقامات اور ڈرون اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران نے امریکی اتحادیوں کے اڈوں پر حملے کا دعویٰ بھی کیا۔  ایکسیوز کی رپورٹ کے مطابق، جب تک مذاکرات جاری رہیں گے  دونوں فریقین نے تمام فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے ۔ قطر میں ہونے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز پر بھی بات کی جائے گی۔ مجوزہ مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور امن عمل کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔


یہ ملاقات ابتدائی طور پر سوئٹزرلینڈ میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر کی گئی تھیں۔ تاہم، تازہ ترین فوجی جھڑپ کے بعد، سفارت کاروں نے اجلاس کو دوحہ منتقل کر دیا اور ایجنڈے کو محدود کر کے صرف اور صرف آبنائے ہرمز کے تنازع پر توجہ مرکوز کی۔

درحقیقت آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر ابھراہے۔ معاہدے کے مطابق ایران نے اس سمندری راستے سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزر گاہ کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ بدلے میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر سے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔