ناروے میں سوشل میڈیا کے ساتھ گیمز پر بھی پابندی لگانے کی تیاری، بچوں کو ذہنی امراض سے بچانے کی کوشش
ناروے نے اپریل ماہ میں ہی کہا تھا کہ وہ سال کے آخر تک پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گا۔ اس کے تحت بچوں کے 16 سال کی عمر مکمل کرنے تک سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز ہے۔

ناروے کی حکومت اب ایک نیا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ گیمز پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ قانون 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے نافذ کیا جائے گا۔ یہ اطلاع خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ ایک میں دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ناروے میں بچوں کے لیے مجوزہ بل میں نقصاندہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شامل کیا جائے گا۔ اس قدم کے ذریعہ بچوں کو ذہنی امراض سے بچانے کے ساتھ ساتھ صحت پر پڑنے والے مضر اثرات سے بھی بچانے کی کوشش ہے۔ حکومت نے پیر کو اس بارے میں کچھ اہم جانکاریاں دیں۔ اس قانون سے میسیجنگ اور گیمنگ سروسز کی ایپس بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان میں روبلوکس، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ناروے نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ سال کے آخر تک پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گا۔ اس کے تحت بچوں کے 16 سال کی عمر مکمل کرنے تک ان کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز ہے۔ منصوبہ کے مطابق کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ جو کمپنیاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گی، انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حالانکہ اُس وقت حکومت نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ پابندی کن کن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نافذ ہوگی۔
ناروے پہلا ملک نہیں ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی گئی ہے یا ایسا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا پہلا ملک ہے جس نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔ آسٹریلیا کے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ آسٹریلیا کے اس قانون کے نتیجے میں فیس بک، یوٹیوب، ایکس اور اسنیپ چیٹ سمیت دیگر پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنا پڑا۔
آسٹریلیا کے بعد آسٹریا نے بھی مارچ 2026 میں اس سلسلے میں قانون متعارف کرایا۔ اس کے بعد وہاں بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کے لیے بل پیش کیا گیا۔ برازیل بھی اس سلسلے میں نئے قوانین لا چکا ہے، جب کہ کناڈا میں بھی اس حوالے سے ضابطے نافذ کیے جا چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید ممالک بھی اس سلسلے میں قوانین متعارف کرا سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
