ناروے: اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے پاس زوردار دھماکہ، آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں اور دیواریں تک لرز گئیں
دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں اور دیواریں تک لرز گئیں۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ ’’میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، تبھی اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور میرا پورا گھر لرز اٹھا۔‘‘

ناروے کی راجدھانی اوسلو میں اتوار کی صبح اس وقت افرا تفری مچ گئی جب امریکی سفارت خانے کے قریب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ اوسلو پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں اس پراسرار دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہیں۔ راحت کی بات یہ رہی ہے کہ اس واقعہ میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں اور دیواریں تک لرز گئیں۔ ہوسیبی علاقے میں واقع سفارت خانے کے پاس دھماکے کے بعد چاروں طرف دھواں پھیل گیا۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ ’’میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، تبھی اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور میرا پورا گھر لرز اٹھا۔‘‘ سفارت خانے کے قریب رہنے والے دیگر لوگوں نے بھی اسی طرح کے تجربات شیئر کیے ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی معمولی تکنیکی خرابی نہیں ہو سکتی۔ دھماکے کے فوراً بعد لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر طرف ڈر کا ماحول بن گیا۔
امریکی سفارت خانے کے قریب ہوئے زوردار دھماکے کی اطلاع ملتے ہی 5 سے 10 پولیس گاڑی موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کی گھیرا بندی کر دی گئی۔ اوسلو کے محکمہ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سفارت خانے کے افسران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی یا اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ سیکورٹی ٹیمیں بارود یا کسی تکنیکی خرابی جیسے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سفارت خانے کے قریب اس طرح کا واقعہ پیش آنا بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس وقت پوری دنیا میں سفارتی تناؤ اپنے عروج پر ہے۔ سیکورٹی ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا یہ کسی تنظیم کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تو نہیں ہے۔ آنے والے کچھ گھنٹوں میں پولیس کی تفصیلی رپورٹ سے ہی واضح ہو پائے گا کہ اوسلو کو دہلانے والے اس پراسرار دھماکے کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔