رشی سناک کے ساتھ اب رحمان چشتی بھی کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ بننے کی دوڑ میں شامل

رحمان چشتی نے کہا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی کے اگلے رہنما اور وزیر اعظم بننے کے لیے انتخاب میں کھڑے ہو رہے ہیں جس کا مطلب کنزرویٹو کی ایک نئی اڑان ۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اب اس کے دعویداروں کی فہرست میں برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک سمیت نو دیگر لوگوں کے ساتھ رکن پارلیمنٹ رحمان چشتی اور خارجہ سکریٹری لز ٹرس بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں، رکن پارلیمنٹ نے کہا، "میں کنزرویٹو پارٹی کا اگلا لیڈر اور آپ کا وزیر اعظم بننے کے لیے انتخاب میں کھڑا ہوں۔ میرے لیے اس کا مطلب کنزرویٹو کی ایک نئی اڑان ، نئے خیالات اور ایک نئی ٹیم کے ساتھ ہمارے عظیم ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔‘‘


اس سے قبل محترمہ ٹرس نے ٹیلی گراف میں ایک مضمون میں کہا تھا کہ وہ بھی اگلی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا تھا، "میں خود کو بھی آگے بڑھا رہی ہوں کیونکہ میرے پاس قیادت کرنے اور درست فیصلے لینے کی صلاحیت ہے۔ میرے پاس ایک واضح نقطہ نظر ہے کہ ہمیں کہاں ہونا چاہئے، مقصد تک پہنچنے کے لئے تجربہ اور حل بھی ہے۔ میں کنزرویٹو کے طور پر الیکشن لڑوں گی اور کنزرویٹو کے طور پر حکومت کروں گی۔

سیکرٹری خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ وزیراعظم منتخب ہوئیں تو پہلے دن سے ٹیکس کم کرنے پر کام شروع کر دیں گی۔ادھر نو دیگر ارکان میں ساجد جاوید بھی شامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔