نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 1282 پہنچی، 600 بچوں سمیت تقریباً 5000 افراد اب بھی لاپتہ، دسویں دن 2 زندگیاں بچائی گئیں

2 مزدور تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی ایک سُرنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔ 10 دن تک تاریکی اور مشکل حالات میں زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد جمعہ کو انہیں بہ حفاظت باہر نکال لیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

نیپال سیلاب کے بعد تباہی کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے اور زخم کے نشان بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ رَسوا اور نواکوٹ اضلاع میں تقریباً 600 بچے اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر لاپتہ افراد کی تعداد 5000 تک پہنچ چکی ہے۔ نیپال پولیس نے ہلاکتوں سے متعلق بھی تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جس کے بعد سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1282 ہو گئی ہے۔ پولیس نے مختلف علاقوں سے 4798 لوگوں کے اب بھی لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی دی ہے۔ یہ سیلاب نیپال-تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے بعد آیا تھا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی کے نشانات چھوڑے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رَسوا میں تقریباً 280 بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ نواکوٹ میں 300 سے 350 بچے اب بھی نہیں ملے ہیں۔ صرف بیدور میونسپلٹی میں تقریباً 250 بچے لاپتہ ہیں۔ مقامی تعلیمی حکام کے مطابق مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے صحیح اعداد و شمار جمع کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور نئے لاپتہ بچوں کی معلومات مسلسل مل رہی ہیں۔ اس آفت میں دونوں اضلاع کے 22 اساتذہ اور اسکول ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔ ان میں رَسوا کے 16 اور نواکوٹ کے 6 اساتذہ شامل ہیں۔ سیلاب سے رَسوا، نواکوٹ اور دھادینگ کے 22 اسکول متاثر ہوئے ہیں، جن میں 12 مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔


بہرحال، آج دسویں دن بھی مختلف علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں ملبوں میں زندگی تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئی ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ آج 2 زندگیاں بچائی بھی گئی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید کچھ لوگ ایک سُرنگ سے زندہ نکل سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 مزدور تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی ایک سُرنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔ 10 دن تک تاریکی اور مشکل حالات میں زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد جمعہ کو انہیں بہ حفاظت باہر نکال لیا گیا۔ بچائے گئے مزدوروں کی شناخت 45 سالہ کبیر مہاراجن اور 30 سالہ سنجے شاہ کے طور پر ہوئی ہے۔ مہاراجن پروجیکٹ میں میکانیکل سپروائزر اور سنجے فورمین کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ’کاٹھمنڈو پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سُرنگ میں دیگر لاپتہ مزدوروں کی تلاش شدت کے ساتھ کی جاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو آنے والے خوفناک سیلاب نے رَسوا سمیت نیپال کے کئی علاقوں میں زبردست تباہی مچائی تھی۔ اس کے بعد تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں کئی مزدوروں کے پھنسے ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ بچاؤ مہم کے دوران سُرنگ کے اندر سے لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، جس سے پھنسے ہوئے لوگوں کے زندہ ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔


2 مزدوروں کے ملنے کے بعد بچاؤ مہم مزید تیز کر دی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ اور انجینئر شری رام نیوپانے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو ٹیم کو اب بھی سُرنگ کے اندر مزید کچھ لوگوں کے موجود ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اس لیے بچاؤ ٹیم سُرنگ کے دوسرے حصوں میں بھی تلاش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے سُرنگ کے اندر سے آوازیں سنائی دینے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ریسکیو ٹیم نے اندر موجود لوگوں سے بات چیت کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

نیوپانے کے مطابق بچاؤ ٹیم نے سُرنگ کے اندر آواز لگا کر کہا تھا کہ ’’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ٹیم بچانے کے لیے پہنچ رہی ہے۔‘‘ اس کے جواب میں اندر سے ’’ٹھیک ہے‘‘ کہے جانے کی آواز سنائی دی۔ ریسکیو ٹیم نے بعد میں تصدیق کی کہ سُرنگ کے اندر ایک سے زیادہ لوگوں کے ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بعد نیپالی فوج اور آرمڈ پولیس فورس نے انہیں باہر نکالنے کے لیے مہم مزید تیز کر دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔