نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 1250 کے پار پہنچی، لاپتہ افراد کے گھر والے ’پُتلوں‘ کی آخری رسومات ادا کرنے پر مجبور!
تریشولی ندی کے کنارے بسی کئی بستیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ رسوا میں سیلاب آنے کے 3 دن بعد زندہ ملی 5 سال کی بچی منیشا کا علاج کاٹھمنڈو واقع تریبھون اسپتال میں چل رہا ہے۔

نیپال میں 26 اگست کو آنے والی تباہی نے جو زخم دیے ہیں، انہیں بھرنے میں پڑوسی ملک کو طویل وقت لگے گا۔ 9 دن بعد بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر گزرتا دن اپنوں کو پانے کی امیدوں کو دھندلا کرتا جا رہا ہے، تو کہیں کسی ملبے سے ملنے والے معصوم اپنے اہل خانہ میں امید کی ایک شمع پیدا کر رہے ہیں۔ نیپالی پولیس کے مطابق جمعرات کو مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,252 ہو گئی ہے، جبکہ لاپتہ لوگوں کی تخمینی تعداد 4,875 تک پہنچ گئی ہے۔
نیپال-تبت سرحد کے قریب گلیشیئر پھٹنے سے سب سے زیادہ تباہی رسوا، نواکوٹ، چتوان اور بھوٹے کوشی ندی کے قریب کے علاقوں میں ہوئی۔ تریشولی ندی کے کنارے آباد کئی بستیاں اس سیلاب میں تباہ ہو گئیں۔ رسوا میں سیلاب آنے کے 3 دن بعد زندہ ملنے والی 5 سالہ بچی منیشا کا علاج کاٹھمنڈو کے تریبھون اسپتال میں چل رہا ہے۔
آپ مجھے ڈھونڈنے کیوں نہیں آئے
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نے منیشا کے والد لوک بہادر اور اس کی ماں سے خصوصی بات چیت کی، لیکن بچی کچھ نہیں بول پائی۔ منیشا کے والد لوک بہادر نے بتایا کہ ’’ہم نے منیشا کو 2 دن تک تلاش کیا، لیکن وہ نہیں ملی، اس کے بعد ہمیں لگا کہ وہ سیلاب میں بہہ گئی اور مر گئی، اس لیے ہم کاٹھمنڈو آ گئے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’4 دن بعد ہمیں پتہ چلا کہ منیشا مل گئی ہے۔ جب ہم منیشا سے ملے تو اس نے مجھ سے کہا– پاپا، میں 3 دن تک ملبے میں پھنسی رہی، آپ مجھے ڈھونڈنے کیوں نہیں آئے؟‘‘
بے بسی میں پُتلے کی آخری رسومات
دوسری جانب اپنوں کے ملنے کی امیدیں ختم ہوتی دیکھ کر لوگ پوری طرح ٹوٹ چکے ہیں اور وہ ان کے پُتلے بنا کر آخری رسومات ادا کرنے لگے ہیں۔ ایک آن لائن نیوز پورٹل نے جمعرات کو شائع رپورٹ میں بتایا کہ رسوا کے پہارے بیسی گاؤں میں لوگوں نے لاپتہ رشتہ داروں کے بارے میں 8 دن تک کوئی اطلاع نہ ملنے پر ان کی آخری رسومات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ دی گئی جانکاری کے مطابق لاپتہ لوگوں کے اہل خانہ اب علامتی پُتلے بنا کر آخری رسومات ادا کرنے لگے ہیں، جبکہ کئی لوگوں کے پاس سوگ منانے کے لیے گھر بھی نہیں بچے ہیں۔
بھوٹے کوشی میں دوبارہ سیلاب کا خطرہ
اس درمیان بھوٹے کوشی ندی کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے دوبارہ سیلاب آنے کا خطرہ برقرار ہے۔ 26 اگست کو اچانک آنے والے سیلاب نے شمالی اور وسطی نیپال کے قصبوں اور گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، اگر دوبارہ سیلاب آیا تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ آبی وسائل اور موسمیات محکمہ کے سیلاب پیش گوئی ڈویژن کی ٹیکنیشن سرسوتی بشٹ نے بتایا کہ جمعرات کو بھوٹے کوشی ندی کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس سے بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے ساتھ ساتھ رسوا اور نواکوٹ اضلاع سے بہنے والی چھوٹی ندیوں اور نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
