نیپال سیلاب: ٹنل میں پھنسی 6 لاشیں برآمد، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1416 پہنچی، 6 ہزار سے زائد لوگ اب بھی لاپتہ

جمعہ کے روز نیپال میں ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سُرنگ سے 6 لاشیں برآمد کی گئیں۔ یہ سبھی کنکریٹ کا کام کرنے کے لیے تیار کی گئی اسٹیل کی جالی میں پھنسے ہوئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کے بعد ریسکیو ٹیم، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کے بعد ملبوں اور سُرنگوں میں پھنسے لوگوں کی تلاش کر رہی ایجنسیوں کو ایک سرنگ سے مزید 6 لاشیں ملی ہیں۔ کچھ ہی دن قبل ایک سُرنگ سے ایک شخص کو زندہ نکالا گیا تھا، لیکن اس بار ٹنل میں پھنسے 6 افراد کی لاشیں ملنے سے ریسکیو اہلکاروں کے درمیان افسوس کا ماحول پھیل گیا۔ 6 برآمد لاشوں کے بعد نیپال سیلاب سے مچی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 1416 پہنچ گئی ہے، جبکہ 6 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کو نیپال میں ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سُرنگ سے 6 لاشیں برآمد ہوئی گئیں۔ نیپال کی فوج نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی ایک مشترکہ ٹیم نے نواکوٹ ضلع میں اپر تریشولی-1 پروجیکٹ سائٹ پر آڈٹ-3 ٹنل سے یہ لاشیں برآمد کیں۔ یہ سبھی لاشیں ٹنل میں کنکریٹ کے کام کے لیے تیار کی گئی اسٹیل کی جالی میں پھنسی ہوئی ملی ہیں۔ نیپال کے فوجی ہیڈکوارٹر کے مطابق انہیں نکالنے کے لیے ٹیم نے گرائنڈر، گیس کٹر اور روٹری ریسکیو آلات کا استعمال کیا۔


قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانیں کھسکنے (ایوالانچ) کے باعث آنے والے اچانک سیلاب نے شمالی اور وسطی نیپال کے قصبوں اور دیہات کو تباہ کر دیا تھا۔ 17 ستمبر تک اس تباہی میں کم از کم 1,410 افراد کی موت ہو چکی تھی اور 6,145 لوگ لاپتہ تھے۔ اب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1416 پہنچ چکی ہے۔ اس درمیان تلاش اور بچاؤ ٹیموں نے مختلف متاثرہ علاقوں سے 13,756 سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا ہے۔ لاپتہ لوگوں کی تلاش کے لیے مہم جاری بھی رکھی گئی ہے، کیونکہ بچاؤ کارکنوں کو شبہ ہے کہ سُرنگ کے اندر کیچڑ کے نیچے مزید لاشیں دبی ہو سکتی ہیں۔

اس سے قبل سُرنگ میں پھنسے سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کو حادثے کے 9 دن بعد زندہ باہر نکالا گیا تھا۔ اس کے لیے غیر ملکی ٹیکنیشینوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم لاپتہ ملازمین کی تلاش کے لیے پروجیکٹ کی مرکزی ایکسیس سرنگ میں تقریباً 400 میٹر اندر گئی تھی۔ بتایا جا رہا ہے رسوا گڑھی، رسوا، بھوٹے کوشی، لنگ ٹانگ، تریشولی-3 اے اور اپر تریشولی-3 بی سمیت کئی دیگر ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر اب بھی تلاش کی مہم جاری ہے۔ تلاشی مہم کے دوران لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ گزشتہ بدھ کے روز چلمے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی ایک سرنگ سے بھی 5 لاشیں نکالی گئی تھیں۔ ہندوستانی اور نیپالی بچاؤ ٹیموں نے زیر زمین بنے پاور ہاؤس تک پہنچنے کے لیے کیچڑ اور ملبہ ہٹایا تھا۔ یہاں کوئی بھی شخص زندہ نہیں ملا۔


اس دوران مکوان پور ضلع انتظامیہ دفتر کے انتظامی افسر سنتوش سوبیدی کے مطابق ہیتوڑا کو کاٹھمنڈو سے جوڑنے والی 2 اہم سڑکوں، تریبھون اور کانتی ہائی وے پر جمعہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی۔ یہ قدم دھادینگ ضلع میں پرتھوی ہائی وے کے کرشن بھیڑ سیکشن پر ٹریفک بحال ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ 26 اگست کو آنے والے سیلاب کے باعث سڑک دھنس جانے سے یہاں راستہ بند ہو گیا تھا۔ تریبھون ہائی وے ہیتوڑا کو پالونگ-نوبیسے کے راستے کاٹھمنڈو سے جوڑتا ہے، جبکہ کانتی ہائی وے ان دونوں شہروں کو ٹیکا بھیرو-للت پور کے راستے جوڑتا ہے۔ پرتھوی ہائی وے پر رکاوٹ کے بعد ٹریفک کو آسان اور محفوظ بنانے کے مقصد سے یکم ستمبر سے مال بردار گاڑیوں اور بڑی گاڑیوں کے لیے کاٹھمنڈو جاتے وقت تریبھون ہائی وے اور واپسی کے وقت کانتی ہائی وے استعمال کرنے کا انتظام نافذ کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔