نیپال: کرائم برانچ نے سابق چیف جسٹس چولیندر شمشیر کو گھر سے کیا گرفتار

2 جنوری 2019 کو نیپال کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے رانا 13 فروری 2022 کو پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد آئینی شق کے تحت خود بخود معطل ہو گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>چولیندر شمشیر جنگ بہادر رانا، تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i

نیپال کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چولیندر شمشیر جنگ بہادر رانا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کاٹھمنڈو کرائم برانچ کی ٹیم نے اتوار کی صبح مہاراج گنج واقع ان کی رہائش گاہ سے انہیں حراست میں لیا۔ سابق چیف جسٹس رانا کے خلاف کاٹھمنڈو کرائم برانچ میں شکایت درج کیے جانے کے بعد ان کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے۔ حالانکہ پولیس نے ابھی تک شکایت اور الزامات کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔

پولیس نے سابق چیف جسٹس رانا کو ضروری تفتیش کے لیے حراست میں لیے جانے کی بات کہتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں جلد مزید معلومات عام کی جائیں گی۔ 2  جنوری 2019 کو نیپال کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے رانا 13 فروری 2022 کو پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد آئینی شق کے تحت خود بخود معطل ہو گئے تھے۔ طویل عرصے تک ان کے خلاف سپریم کورٹ میں معاملہ چلتا رہا۔


حال ہی میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف لگائے گئے مواخذے کی کارروائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی تمام طرح کی رقم جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے فیصلے کو سابق چیف جسٹس رانا کی سربراہی والی آئینی بنچ نے مسترد کر دیا تھا۔ اسی وقت اولی کے خلاف بنے نیپالی کانگریس اور ماؤ نواز اتحاد کے لیڈر شیر بہادر دیوبا کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔