’نہ راستہ کھلے گا، نہ ہی مذاکرہ ہوگا‘، آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی دعویٰ پر ایران کی دو ٹوک
ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے واضح لفظوں میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا، اور امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہ تو ہوئی ہے اور نہ ہی آگے ہوگی۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی دن بہ دن بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران مستقل امریکہ و اسرائیل کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور سخت بیانات بھی دے رہا ہے۔ اب ایک نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں امریکہ و اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے اور کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا گیا ہے۔ تازہ بیان ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے دیا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا، اور امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہ ہوئی ہے، نہ ہی آئندہ ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے بات چیت سے متعلق دیے گئے بیانات بے بنیاد ہیں اور تنازعہ پیدا کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کا کہنا ہے کہ جنگ، امن اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے ایران کے سپریم لیڈر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں اور فی الحال بات چیت کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک نئی منصوبہ بندی کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان عالمی تیل سپلائی اور معیشت پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہونے سے عالمی تیل بازار پر بڑا اثر پڑا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
بہرحال، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی، چاہے وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ۔ انہوں نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں پیغامات کے تبادلے کی بات کہی جا رہی تھی۔ اس سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ موجودہ فوجی کارروائی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کھل جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یا تو ایران بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے گا یا پھر امریکہ کی حمایت یافتہ اتحادی طاقتیں اس راستے کو کھلا رکھیں گی۔
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا بھی اس سلسلے میں ایک بیان سامنے آیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنا صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ تیاری امریکہ نے ہی کی ہے۔ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ 2 سے 3 ہفتوں کے اندر اس تنازعہ سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے اور امریکہ کے ہٹنے کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔