میانمار: باغی گروپ کے قبضہ والے علاقہ میں فوج کا ہوائی حملہ، تقریباً 50 افراد جاں بحق
یکم فروری 2021 کو فوج کی جانب سے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت سے اقتدار چھیننے کے بعد سے ہی میانمار میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔

میانمار کی فوج نے ایک طاقتور باغی گروپ کے قبضہ والے علاقہ میں بازار کے قریب زوردار فضائی حملہ کیا۔ اس حملے میں تقریباً 50 افراد ہلاک اور 58 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع باغی گروپ اور راحت و بچاؤ کے کام سے وابستہ ایک افسر نے دی ہے۔
یہ حملہ مغربی ریاست رخائن میں ہوا۔ ملک بھر میں جمہوریت کے حامی باغی گروپوں اور نسلی مسلح گروپوں کے خلاف فوج کی جانب سے کیے جانے والے مہلک فضائی حملوں کے سلسلے میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ یکم فروری 2021 کو فوج کی جانب سے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت سے اقتدار چھیننے کے بعد سے ہی میانمار میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے پرامن احتجاجی مظاہروں کو مہلک طاقت کے استعمال سے دبائے جانے کے بعد فوجی حکومت کے کئی مخالفین نے ہتھیار اٹھا لیے، جس کے نتیجے میں ملک کے بڑے حصے تصادم کی زد میں آ گئے۔
پیر کے روز کیا گیا تازہ حملہ کیاؤکتاؤ ٹاؤن شپ میں ہوا، جو ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے سے تقریباً 340 کلومیٹر (210 میل) مغرب میں واقع ہے۔ یہ اطلاع رخائن میں سرگرم ایک طاقتور نسلی مسلح گروپ ’اراکان آرمی‘ نے دی، جس کا کیاؤکتاؤ پر کنٹرول ہے۔ اس حملے کی اطلاع کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
منگل کی علی الصبح جاری ایک بیان میں اراکان آرمی نے کہا کہ دوپہر کے وقت ایک جنگی طیارے نے مقامی بازار کے قریب دو بم گرائے، جس کے نتیجے میں سامان فروخت کرنے والے، خریدار اور پیدل چلنے والے کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ گروپ نے بتایا کہ اس حملے میں کم و بیش 58 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 22 کی حالت نازک ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ ان افراد اور تنظیموں کے خلاف جلد ہی مؤثر جوابی کارروائی کرے گا جو قصداً کیے گئے فضائی حملوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ راحت و بچاؤ کے کام سے وابستہ رخائن کے ایک سینئر افسر وائی ہن آنگ نے جائے وقوع پر موجود امدادی کارکنوں کے حوالے سے ’دی ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ کو ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بازار علاقے کا اہم تھوک مرکز تھا، جہاں پوری ریاست سے تاجر اور خریدار آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ رخائن میں ہونے والے سب سے بھیانک فضائی حملوں میں سے ایک ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں عمارتوں میں آگ لگنے، گاڑیوں کو نقصان پہنچنے اور قریب کے ایک پل کا کچھ حصہ تباہ ہونے کے مناظر دکھائی دیے۔ فوج نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فوج پہلے کہہ چکی ہے کہ وہ صرف جائز فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس نے باغی گروپوں پر دہشت گردی کا الزام بھی لگایا ہے۔
واضح رہے کہ اراکان آرمی ایک ایسی تحریک کا تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی ونگ ہے، جو میانمار کی مرکزی حکومت سے رخائن کے نسلی اقلیتی طبقوں کے لیے خود مختاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس نے نومبر 2023 میں رخائن میں حملے شروع کیے تھے اور اس کے بعد سے اہم اسٹریٹجک علاقائی فوجی ہیڈکوارٹر اور ریاست کی 17 ٹاؤن شپ میں سے 14 پر قبضہ کر لیا ہے۔ رخائن میں جنگ تیز ہونے کے بعد سے فوج نے تجارتی راستوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے خوراک کی قلت مزید سنگین ہو گئی ہے۔ دسمبر میں رخائن کی مروک-یو ٹاؤن شپ کے ایک اسپتال پر فوج کے فضائی حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
