ایران پر امریکی حملے کو کملا ہیرس نے ’بکواس‘ قرار دیا
سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران تنازعہ میں گھسیٹا ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی کملا ہیرس نے ایک بار پھر کھل کر مذمت کی ہے۔ سابق نائب امریکی صدر نے اسٹیج سے اسے ایک ’بکواس عمل‘ قرار دیا۔ کملا ہیرس نے لاس ویگاس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک پروگرام میں امریکہ-اسرائیل کے ذریعہ ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بکواس قرار دیا تو وہاں موجود لوگوں نے زوردار تالیاں بجائیں۔ ہیرس نے کہا کہ ’’ایران میں یہ جنگ، جسے امریکی عوام نہیں چاہتی، جسے کانگریس کی منظوری نہیں ملی، اگر مل بھی جاتی تب بھی اسے شروع نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ وہ مکمل طور سے تباہ کر دینے کی بات کر رہے تھے... یہ صرف بکواس ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب کملا ہیرس نے ایران پر حملے کی مذمت کر رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ ان حملوں کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ پر نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر امریکہ کو ایک ناپسندیدہ جنگ میں دھکیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کملا ہیرس نے اسے امریکی مفادات کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائی ملک کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک سازش ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 11 اپریل کو نیشنل ایکشن نیٹورک کانفرنس میں کملا ہیرس نے وارننگ دی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ، ناٹو پر ٹرمپ کے حملے اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے دنیا میں امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو سازش کا سرغنہ تک قرار دے دیا تھا۔ کملا ہیرس نے کہا تھا کہ ’’وہ ایک گروہ کے سرغنہ کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ آپ مشرقی یورپ کو لیجیے، میں مغربی نصف کرہ کو لوں گا اور ہم اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے۔‘‘ ان کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران تنازعہ میں گھسیٹا ہے۔ کملا ہیرس کا ماننا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
