ایران میں ایک شخص کے قتل کے جرم میں نابالغ کو پھانسی دے دی گئی
انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا کہ پھانسی ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔

ایران میں ایک 17 سالہ نابالغ مجرم کو تقریباً دو سال بعد پھانسی دے دی گئی ہے جس پر ایک شخص کو مبینہ طور پر قتل کرنے کا الزام تھا۔مقامی ٹی وی چینل نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
اس معاملے پر ناروے میں قائم ہانگاؤ اور ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) گروپوں نے نابالغ کو پھانسی دینے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔انسانی حقوق گروپوں نے مختلف بیانات میں کہا کہ حامدرضا آذری کو جمعہ کو صوبہ رضوی خراسان کے مشرقی شہر سبزوار کی ایک جیل میں پھانسی دی گئی۔
میڈیا کے مطابق آذری اپنے خاندان کا اکلوتا بچہ تھا اور اپنی کم عمری کے باوجود چند سال قبل اسکریپ ورکر کے طور پر کام شروع کیا تھا۔
ہینگا اور آئی ایچ آر دونوں نے، دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرم کے وقت اس کی عمر 16 اور پھانسی کے وقت 17 سال تھی۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا کہ پھانسی ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
