زلزلے نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا، سوشل میڈیا پر نیوکلیئر ٹیسٹ کی افواہیں گشت کرنے لگیں
صحرائے نیگیو میں ڈیمونا کے قریب 4.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے ایٹمی تجربے کی افواہیں پھیل گئیں۔ زلزلہ اسرائیل کے خفیہ جوہری مرکز کے قریب پیش آیا، جہاں اسی وقت میں اسکول کی ہنگامی مشق جاری تھی۔

جمعرات کی صبح نو بجے اسرائیل کے جنوبی صحرائے نیگیو میں 4.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کا مرکز ڈیمونا شہر کے قریب تھا۔ اس علاقہ میں اسرائیل کا سب سے خفیہ جوہری تحقیقی مرکز (شیمون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر) ہے۔ زلزلے کی وجہ سے سائرن بجا، مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سوشل میڈیا پر ایٹمی تجربے کی افواہیں پھیل گئیں۔
اسرائیل کی ڈیڈ سی رفٹ ویلی میں زلزلے عام ہیں، جو ٹیکٹونک پلیٹوں کا ایک علاقہ ہے۔ لیکن اس بار ٹائمنگ اور لوکیشن نے سب کو حیران کر دیا۔ ڈیمونا میں اسرائیل کا نیوکلیئر ری ایکٹر ہے جہاں ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل 1960 کی دہائی سے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے پلوٹونیم تیار کر رہا ہے۔ اسرائیل کبھی بھی این پی ٹی میں شامل نہیں ہوا اور وہ اسٹریٹجک ابہام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
زلزلے کی گہرائی اور دورانیہ (چند سیکنڈ) ایٹمی ٹیسٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔ اسی وقت ملک بھر کے اسکولوں میں قومی ہنگامی مشقیں جاری تھیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسرائیل نے ایٹمی تجربہ کیا؟کیا یہ ایران کو وارننگ ہے؟
ایران میں خامنہ ای کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو روکے۔ جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی لیکن حال ہی میں کہا ہے کہ مظاہرین کا قتل روک دیا گیا ہے۔ ایران اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اور حملے کی صورت میں اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔