اسرائیل نے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن مچھار کو ملک کا سب سے بڑا بہادری ایوارڈ دینے کا کیا اعلان

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ ہندوستانی پائلٹ کو صحت یاب ہونے کے بعد انھیں ’پریزیڈنشیل ایوارڈ فار سویلین ہیرو ازم‘ اعزاز سے نوازا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>کیپٹن اسمت مچھار، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/SuvenduWB">@SuvenduWB</a></p></div>
i

’فلائی دبئی‘ کی پرواز میں عملہ کے اراکین سمیت تقریباً 180 مسافروں کی جان بچانے والے ہند نژاد پائلٹ کیپٹن سمت مچھار کو اسرائیل کے ’پریزیڈنشیل ایوارڈ فار سویلین ہیرو ازم‘ سے نوازا جائے گا۔ یہ اسرائیل میں شہریوں کے لیے ملک کا سب سے بڑا بہادری کا اعزاز ہے۔ کیپٹن مچھار نے اپنے شریک پائلٹ ہمام الحمامی کی جانب سے پرواز کو یرغمال بنانے کی سازش کو ناکام بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ان کی تعریف ہو رہی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ الحمامی نے اس طرح کی حرکت کیوں کی۔ اس نے کیپٹن مچھار پر کلہاڑی سے جان لیوا حملہ بھی کیا تھا، جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات کے ایک اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔

کیپٹن مچھار کی حاضر دماغی اور فوری کارروائی کی دنیا بھر میں تعریف کی جارہی ہے۔ انہوں نے زخمی حالت میں بھی پرواز کے دوران کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافروں نے حملہ آور شریک پائلٹ کو قابو میں کر لیا اور سب کی جان بچائی جا سکی۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ ہندوستانی پائلٹ کو صحت یاب ہونے کے بعد یہ اعزاز دیا جائے گا۔ اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ ’’آج ہم جن اسرائیلی ہیروز کو اعزاز سے نواز رہے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ ہم ہندوستان کے کیپٹن سمت مچھار کی مکمل اور جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ کپتان مچھار کی غیر معمولی بہادری اور بہترین فیصلے نے ایک بڑے حادثے کو ٹالنے میں مدد کی۔ ان کے صحت یاب ہونے کے بعد اسرائیلی عوام کی جانب سے انہیں ’شہری بہادری کے لیے اسرائیل کا صدارتی اعزاز‘ دینا میرے لیے باعث فخر ہوگا۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الحمامی کا اصل منصوبہ طیارے پر قبضہ کرکے اسے تل ابیب لے جانے اور کسی عمارت سے ٹکرا کر تباہ کرنے کا تھا۔ کیپٹن مچھار کی بہادری نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد عمان کے شہری نے طیارے کو صحرا میں گرانے کی کوشش کی۔ تاہم، طیارے میں موجود ایسے پائلٹ جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے، انہوں نے طیارے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔

بہرحال، اسرائیلی صدر سماج اور انسانیت کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات، انعامات اور اسکالرشپ سے نوازتے ہیں۔ ان میں ’پریزیڈنشیل ایوارڈ فار سویلین ہیرو ازم‘، ’اسرائیلی پریزیڈنشیل میڈل آف آنر‘، ’رضاکارانہ خدمات کے لیے صدارتی اعزاز‘ اور ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالرشپ شامل ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کو بھی ’اسرائیلی پریزیڈنشیل میڈل آف آنر‘ سے نوازا جا چکا ہے۔


غور طلب ہے کہ امریکی پارلیمنٹ نے بھی کیپٹن مچھار کو اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ نیو جرسی کے رکن پارلیمنٹ جوش گوٹ ہائمر نے 5 اکتوبر کو امریکی پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں ایک قرارداد پیش کی ہے۔