اگر ضرورت پڑی تو ایران پر اسرائیل تیسری بار بھی حملہ کر سکتا ہے: بنجامن نیتن یاہو
ترکیہ کی نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اسرائیل آزادانہ طور پر کارروائی کرے گا۔

ایران-امریکہ امن مذاکرات کے درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ نیتن یاہو نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل انہیں ایسے اشتعال انگیز بیانات اور لبنان پر حملے روکنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ایران پر گزشتہ حملوں کو جوہری تباہی سے بچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو اسرائیل تیسرا حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترکیہ کی نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اسرائیل آزادانہ طور پر کارروائی کرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل کے سیکورٹی مطالبات کو پورا نہیں کیا جاتا ہے تو مزید ایک مہم چلائی جا سکتی ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے بار بار اشارہ دیا ہے کہ وہ خود کو کسی بھی ایسے معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا جو ایران کی جوہری صلاحیت کو برقرار رکھتا ہو۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے اور از سر نو کشیدگی بڑھانے کے خلاف وارننگ بھی دی۔ ’ایکسیوز‘ کو دیے ایک بیان کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر حملے اسرائیل کو سفارتی طور پر تنہا کر سکتے ہیں اور جاری مذاکرات کو کمزور کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’’میں نے نیتن یاہو سے کہا، بی بی تم محتاط رہنا ورنہ بہت جلد تم اکیلے پڑ جاؤگے۔‘‘
دوسری جانب ایران نے منگل (30 جون) کو کہا کہ اگر امریکہ کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی تو وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ تہران نے کہا کہ بات چیت اس کی پہلی پسند ہے کیونکہ دونوں ممالک ’ایم او یو‘ کو آگے بڑھانے کے لیے میٹنگ کر رہے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کو دیے انٹرویو میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالیباف نے کہا کہ ’’ہم بات چیت کے لیے کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر بات چیت کامیاب نہیں ہوتی ہے تو ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں اور اسی کے مطابق جواب دیں گے۔‘‘ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق کہا کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (این پی ٹی) کا رکن ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں ہے۔ ایران نیوکلیئر افزودگی کو اپنا حق مانتا ہے۔ این پی ٹی قوانین پر عمل کیا جا رہا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
