کیا ایران کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی مل رہی سزا؟ تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کے بعد الگ تھلگ پڑے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

’دی ڈیلی میل‘ نے امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ’’ویسٹ ونگ میں جے ڈی وینس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وینس کے مقابلے میں ویسٹ ونگ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دبدبہ بڑھ گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ تلسی کی طرح وینس بھی ایران جنگ کے خلاف تھے، جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے وینس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی آفیشیل ردعمل نہیں دیا ہے۔ ’دی ڈیلی میل‘ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ویسٹ ونگ میں جے ڈی وینس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وینس کے مقابلے میں ویسٹ ونگ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دبدبہ بڑھ گیا ہے۔

’دی ڈیلی میل‘ کے مطابق نائب صدر وینس کی ایران کے حوالے سے نرم پسند خارجہ پالیسی نے انہیں ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ کے جنگی لیڈر کے طور پر اپنی شبیہ کو اپنانے کے ساتھ ہی یہ دراڑ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر کھل کر کہہ دیا تھا کہ وینس ہی وہ واحد شخص تھے، جو ایران پر حملے کے حوالے سے تھوڑے ہچکچائے ہوئے تھے۔ حالانکہ وینس نے کبھی بھی کھل کر ایران حملے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ واضح رہے کہ وینس ہی کی طرح تلسی گبارڈ بھی ایران پر حملے کے خلاف تھیں۔ آخر کار انہیں اپنا استعفیٰ دینا پڑا۔ تلسی گبارڈ نے ایک خط جاری کر کے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دینے کی بات کہی۔


واضح رہے کہ جے ڈی وینس کے پاس فی الحال ایران جوہری معاہدے کی کمان ہے۔ امریکہ کی طرف سے جے ڈی وینس ہی اس ڈیل کی قیادت کر رہے ہیں۔ وینس کی وجہ سے ہی اس ڈیل میں قطر کی انٹری کرائی گئی۔ حالانکہ ٹرمپ جس قسم کا معاہدہ چاہتے ہیں، ویسا نتیجہ اب تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کے تحت امریکہ کو افزودہ یورینیم سونپ دے، جس کا استعمال وسط مدتی انتخابات کی مہم میں کیا جا سکے۔ ایران نے کسی بھی صورت میں امریکہ کو افزودہ یورینیم نہ دینے کی بات کہی ہے۔

’دی ڈیلی میل‘ کے مطابق جے ڈی وینس آئندہ صدارتی انتخاب سے دور رہ سکتے ہیں۔ وینس نہیں چاہتے کہ ایران میں جو نقصان ہوا ہے، اس کا ٹھیکرا ان پر پھوٹے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں 2028 میں صدارتی انتخاب ہونا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی طرف سے جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو اس عہدے کے مضبوط دعویدار ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔