کیا ایران سے خوفزدہ ہو گیا امریکہ؟ 3 میں سے 2 مائنس جہازوں کو اچانک مشرق وسطیٰ سے کیوں ہٹا دیا؟
یہ دونوں جہاز انڈیپنڈنس کلاس کے ہیں اور سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو تلاش کر ہٹانے کے لیے خاص سسٹم سے مزین ہیں۔ ان کے پاس دھماکہ خیز مادوں کا پتہ لگانے اور انھیں غیر فعال کرنے کی سہولت بھی ہے

امریکہ اور ایران کی جنگ امید سے زیادہ طویل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ امریکی صدر ترمپ کی بار بار دھمکیوں کے باوجود ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ وہ تو امریکہ اور اسرائیل سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔ اس درمیان ایک حیرت انگیز معلومات سامنے آئی ہے۔ امریکی بحریہ کے 3 میں سے 2 بارودی سرنگیں (مائنز) تلاش کرنے اور ہٹانے والے جہاز مشرق وسطیٰ سے دور ایشیا میں دیکھے گئے ہیں۔ اس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا ایران سے امریکہ خوفزدہ ہو گیا ہے؟ سیکورٹی پر مبنی کچھ سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں، جن کے جواب فی الحال امریکہ کی طرف سے نہیں دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ٹلسا اور یو ایس ایس سانتا باربرا کو حال ہی میں ملیشیا کی ریاست پینانگ کے نارتھ بٹر ورتھ کنٹینر ٹرمینل پر کھڑا دیکھا گیا۔ یہ جگہ بحرین میں ان کے بیس سے تقریباً 3500 میل دور ہے۔ عام طور پر یہ جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات رہتے ہیں اور امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ کے تحت کام کرتے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان جہازوں کو وہاں سے ہٹا کر ایشیا کیوں بھیجا گیا ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ اور انڈو پیسفک کمانڈ نے اس پر ہنوز کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ پنٹاگون نے بھی براہ راست اس تعلق سے کچھ نہیں کہا اور اس معاملے کو انڈو پیسفک کمانڈ کی طرف بھیج دیا۔ یہ دونوں جہاز انڈیپنڈنس کلاس کے ہیں اور سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے اور ہٹانے کے لیے خصوصی سسٹم سے مزین ہیں۔ ان کے پاس دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے انڈر واٹر ڈرون، سونار اور ہیلی کاپٹر جیسے وسائل موجود ہیں۔
بہرحال، تیسرا جہاز یو ایس ایس کینبرا اب بھی خلیجی علاقہ میں موجود بتایا گیا ہے۔ پہلے امریکہ کے پاس 4 پرانے ایونجر کلاس مائن ہٹانے والے جہاز تھے، لیکن انہیں گزشتہ سال ہٹا دیا گیا۔ اب ان نئے جہازوں کو ان کی جگہ کام کرنا تھا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نئے جہازوں کی ٹیکنالوجی ابھی حقیقی جنگ میں مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئی ہے۔ ساتھ ہی یہ جہاز سائز میں بڑے ہیں، جس کی وجہ سے بارودی سرنگوں والے سمندر میں انہیں چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس دوران برطانیہ کے وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کا ملک مائن ہٹانے والے ڈرون بھیج سکتا ہے۔ وہیں جاپان اور آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال آبنائے ہرمز میں اپنے فوجی وسائل بھیجنے پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ دراصل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مدد مانگی تھی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے درجنوں جہازوں پر حملے کیے، جس کی وجہ سے یہ راستہ تقریباً بند ہو گیا ہے۔ 2 ہفتوں سے بند اس راستے کو کھولنے کے لیے امریکہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جہازوں کو روکنے کے لیے سمندر کی تہہ یا اس کی سطح پر 5000 سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں، جن میں دھماکہ خیز مواد بھی شامل ہے۔ گزشتہ ہفتہ امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مائنز بچھانے والی ایران کی 16 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔