عراقی پارلیمنٹ نے سابق وزیر ماحولیات نزار العمیدی کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا

بغداد میں ’پیریاٹک یونین آف کردستان‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ العمیدی اس سے قبل 2022 سے 2024 تک عراق کے وزیر ماحولیات رہ چکے ہیں اور سابق عراقی صدور کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

عراقی پارلیمنٹ نے راجدھانی بغداد میں منعقدہ ایک فیصلہ کن پولنگ سیشن کے بعد سابق وزیر ماحولیات نزار العمیدی کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی نے رَن آف ووٹنگ میں 227 ووٹ حاصل کرنے کے بعد العمیدی کو باضابطہ طور پر فاتح قرار دیا۔ اس اعلان کے بعد نو منتخب صدر نے آئینی طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ یہ اہم اجلاس 329 رکنی پارلیمنٹ کے تقریباً 250 ارکان کی موجودگی میں ہوا، جو کہ صدر کے انتخاب کے لیے درکار 220 ارکان کے آئینی کورم سے زیادہ تھا۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے سیشن کے مطابق پیریاٹک یونین آف کردستان (پی یو کے) کے امیدوار العمیدی نے پہلے راؤنڈ میں 208 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کی، جبکہ ان کے اہم حریف کردستان اسلامک یونین کے مثنیٰ امین اور موجودہ وزیر خارجہ فواد حسین کو بالترتیب 17 اور 16 ووٹ ملے۔ چونکہ پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا، اس لیے انتخاب العمیدی اور امین کے درمیان دوسرے راؤنڈ  میں چلا گیا۔


بغداد میں ’پی یو کے‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ العمیدی اس سے قبل 2022 سے 2024 تک عراق کے وزیر ماحولیات رہ چکے ہیں اور سابق عراقی صدور کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عراقی آئین کے تحت نو منتخب صدر کے پاس 15 دنوں کے اندر پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس کے بعد نامزد امیدوار کے پاس 30 دنوں کے اندر نئی کابینہ تشکیل دینے اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا وقت ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ عراق میں گزشتہ سال نومبر میں پارلیمانی انتخاب ہوئے تھے۔ یہ پولنگ طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کی علامت ہے۔ نئے صدر کا انتخاب اہم کرد جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کی کمی اور گزشتہ کوششوں میں مطلوبہ دو تہائی کورم حاصل نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہا تھا۔ 2003 کے بعد قائم ہونے والے عراق کے اقتدار میں شراکت داری کے نظام کے تحت صدر کا عہدہ کرد برادری کے لیے مخصوص ہے، جبکہ پارلیمنٹ کا اسپیکر سنی اور وزیر اعظم شیعہ برادری سے ہوتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔