ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مصنوعی پیر لگانے کی ضرورت، بولنے میں بھی ہو رہی دقت!

ایرانی افسر کے حوالہ سے بتایا جا رہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پیر کا 3 مرتبہ آپریشن ہو چکا ہے اور ایک ہاتھ کا بھی آپریشن ہوا ہے۔ وہ دھیرے دھیرے ٹھیک ہو رہے ہیں۔ انھیں بولنے میں بھی تکلیف ہو رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنگ شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک دکھائی نہیں دیے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی آواز بھی سنائی نہیں دی ہے، کیونکہ جنگ کے دوران ان کے بیشتر پیغامات تحریری شکل میں ہی سامنے آئے ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن انھیں لگی چوٹ ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملہ کے پہلے ہی دن وہ مبینہ طور پر زخمی ہو گئے تھے اور ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر کئی رشتہ داروں کی موت بھی ہو گئی تھی۔

ایران نے ابھی تک مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ان کے زخم کی سنگینی سے متعلق کوئی جانکاری نہیں دی ہے، اس لیے طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایکر پورٹ کے مطابق ان کی صحت پر نظر رکھنے والے 4 سینئر ایرانی افسران نے بتایا ہے کہ بھلے ہی وہ سنگین طور پر زخمی ہیں، لیکن ذہنی طور پر تیز اور فعال ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کو مصنوعی پیر کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کے ایک پیر کا 3 مرتبہ آپریشن ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے ایک ہاتھ کا بھی آپریشن ہوا ہے اور وہ دھیرے دھیرے ٹھیک ہو رہا ہے۔


رپورٹ میں افسران کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ہونٹوں پر شدید طریقے سے جلنے کے نشانات ہیں، جس کی وجہ سے انھیں بولنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ انھیں پلاسٹک سرجری کی ضرورت ہوگی۔ ان کا علاج سخت نگرانی میں کرایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھا جا رہا ہے کہ ان کے ٹھکانے کا کسی کو پتہ نہ چلے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تک رسائی انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی کے سینئر کمانڈر اور ایرانی حکومت کے سینئر افسران بھی ان سے ملنے نہیں جاتے۔ انھیں خوف ہے کہ سرکردہ لیڈران مجتبیٰ خامنہ ای سے ملنے جائیں گے تو اسرائیل کے ذریعہ ان کے ٹھکانے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں افسران کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے پہلے عوامی خطاب میں کمزور نظر آنے کے خوف سے کیمرے یا مائیکروفون کے سامنے نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مجتبیٰ سے کس طرح رابطہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں پیغام لکھ کر بھیجے جاتے ہیں اور بھروسہ مند قاصد کے ذریعہ ان تک پہنچائے جاتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔