جنگ اور امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی جی ڈی پی میں آئی 10 فیصد کی کمی

ایرانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مارچ کے آخر سے جون کے آخر تک ملک کی جی ڈی پی ایک سال قبل کے مقابلے میں 10.1 فیصد گر گئی۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی پرچم، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ایران کی معیشت پر جنگ اور امریکی پابندیوں کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے۔ ملک کی جی ڈی پی میں بڑی گراوٹ آئی ہے اور مہنگائی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایرانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مارچ کے آخر سے جون کے آخر تک ملک کی جی ڈی پی ایک سال قبل کے مقابلے میں 10.1 فیصد گر گئی۔ یہ فارسی کیلنڈر کی پہلی سہ ماہی کا اعداد و شمار ہے۔ اسی دوران ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں تھا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے ایران کی اوسط مہنگائی 68.9 رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ ہندوستان کی اگست 2026 کی مہنگائی 4.82 فیصد تھی، اس لیے ایران کی 68.9 فیصد مہنگائی ہندوستان کے مقابلے تقریباً 14.3 گنا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے معیشت کافی حد تک تیل اور گیس کی برآمدات پر منحصر ہے۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بھی کافی کم ہوئی اور اب بھی حالت معمول پر نہیں آئے ہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔ امریکہ نے ایران کی تیل کی برآمدات پر دوبارہ ناکہ بندی لاگو کر دی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران سے خام تیل کی لوڈنگ مارچ میں تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی، جو اگست میں کم ہو کر صرف 2.2 لاکھ سے 2.55 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔ تیل کی برآمدات میں کمی کے باعث ایران کے لیے غیر ملکی کرنسی جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ گزشتہ ناکہ بندی کے دوران ایران ایک بیرل تیل تک برآمد نہیں کر پایا تھا۔


اگست میں ایران کی 12 ماہ کی اوسط مہنگائی 69.9 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں قیمتیں 89 فیصد بڑھ گئیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس سے بھی زیادہ رہا۔ کمزور ہوتی کرنسی نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ ستمبر کے آغاز میں اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 22 لاکھ ریال سے زیادہ ہو گئی، جبکہ ایک سال قبل یہ تقریباً 10 لاکھ ریال تھی۔ اس کے مقابلے میں ہندوستان میں اگست 2026 کی خوردہ مہنگائی 4.82 فیصد رہی، جو جولائی کی 4.45 فیصد سے بڑھ گئی۔ یعنی ایران کی 69.9 فیصد اوسط مہنگائی ہندوستان کی اگست کی سی پی آئی شرح سے تقریباً 14.3 گنا ہے۔ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) نے 2026 میں ایران کی حقیقی جی ڈی پی میں 5.4 فیصد کمی کا اندازہ لگایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنگ کی وجہ سے ایران کی صنعت بھی دباؤ میں ہے۔ اگست میں خام مال کا اسٹاک انڈیکس 39.3 رہا جو جولائی کے تقریباً 44.5 سے نیچے ہے۔ دوسری جانب معیشت کا پی ایم آئی 46.9 رہا۔ 50 سے کم پی ایم آئی اقتصادی سرگرمیوں میں گراوٹ کو دکھاتا ہے۔ ایران کے شماریاتی مرکز کے مطابق اگست میں کنزیومر پرائس گزشتہ سال کے مقابلے 84 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ سالانہ مہنگائی کی شرح تقریباً 69 فیصد رہی۔ لاگت میں اضافے کے باعث کنزیومر پروڈکٹس کی قیمتوں پر بھی مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔


ایران کے شماریاتی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حالات جاری رہے تو خام مال اور سامان کا ذخیرہ کم ہو سکتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ کچھ فیکٹریوں کی پیداواری لائنیں سست پڑ سکتی ہیں یا مکمل طور پر بند بھی ہو سکتی ہیں۔ سالانہ مہنگائی تقریباً 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور خام مال کی کمی کی وجہ سے فیکٹریوں میں پیداوار رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایران کو جنگ روکنی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔