’ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت سنگین، قم میں چل رہا علاج‘، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
ایک ڈپلومیٹک میمو میں لکھا گیا ہے کہ ’’متجبیٰ خامنہ ای کا قم میں سنگین حالت میں علاج چل رہا ہے۔ وہ حکومت کے کسی بھی فیصلہ میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔‘‘

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ناساز طبیعت کے بارے میں اسرائیل نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے، جو حیرت انگیز ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قبل میں دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی فوج کی کارروائی میں زخمی ہو گئے تھے، ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ حالانکہ اس کے بعد خامنہ ای کے کئی بیانات سامنے آئے۔ اب ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ نے بتایا ہے کہ ایک انٹلیجنس اسسٹمنٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بیہوش ہیں اور قم شہر میں ایک سنگین بیماری کا علاج کرا رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ امریکی و اسرائیلی انٹلیجنس پر مبنی اور اپنے خلیجی ساتھیوں کے ساتھ شیئر کردہ ایک ڈپلومیٹک میمو میں لکھا ہے کہ ’’مجتبیٰ خامنہ ای کا قم میں سنگین حالت میں علاج چل رہا ہے۔ وہ حکومت کے کسی بھی فیصلے میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔‘‘ حالانکہ اس سلسلے میں ایران کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف سخت بیانات ضرور جاری کیے گئے ہیں، جس میں دشمن ممالک کو منھ توڑ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل نے ایران پر حملہ کر جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی سرکردہ لیڈران کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد متجبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا۔ جنگ کی شروعات کے بعد سے یہ پہلی بار ہے جب کسی رپورٹ میں خامنہ ای کی لوکیشن بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ ڈپلومیٹک میمو میں مجتبیٰ خامنہ ای کے والد علی خامنہ ای کو ابتدائی حملوں میں مارے جانے کے بعد قم میں تدفین کی تیاریوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اسرائیلی میڈیا رپورٹ سے قبل آئی آر جی سی کے ایک سینئر جنرل ماجد خادمی کی موت پر مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان سامنے آیا تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی قیادت کے خلاف قتل اور جرائم ملک کی ترقی کو نہیں روکیں گے۔ سینئر جنرل پیر کو تہران میں اسرائیل کے ذریعہ کیے گئے ہوائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔