اسرائیل-امریکہ کے تازہ حملوں میں آئی آر جی سی کے خفیہ چیف ماجد خادمی کی موت، ایرانی میڈیا نے کی تصدیق

ماجد خادمی نے تقریباً 5 دہائیوں تک ایران کے خفیہ اور سیکورٹی نظام میں ایک اہم کردار نبھایا تھا۔ پیر کے روز اسرائیل و امریکہ کے حملوں میں 25 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ماجد خادمی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں آج ایران کو اس وقت شدید نقصان اٹھانا پڑا جب آئی آر جی سی (ایرانی پاسدارانِ انقلاب) کے انٹلیجنس چیف ماجد خادمی کی موت ہو گئی۔ ایرانی میڈیا نے جو جانکاری دی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ پیر کو اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ کیے گئے سلسلہ وار حملوں میں 25 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک پر حملہ کیا ہے۔ اتوار کو بھی ایران نے حائفہ شہر میں میزائل سے حملہ کیا تھا، جس میں 2 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اس کے انٹلیجنس چیف ماجد خادمی پیر کی صبح امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ یہ جانکاری بی بی سی کی ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ فی الحال اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی کا قتل کہاں ہوا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماجد خادمی نے تقریباً 5 دہائیوں تک ایران کے خفیہ اور سیکورٹی سسٹم میں ایک اہم کردار نبھایا تھا۔ خادمی نے خفیہ اور سیکورٹی سیکٹرس میں انقلابی کام کیا اور اس کا انتظام دیکھنے کے ساتھ ساتھ مادر وطن کے تئیں ایمانداری و بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔ انھوں نے متعلقہ شعبوں میں تقریباً نصف صدی تک اہم، مستقل اور سبق آموز تعاون پیش کیا ہے۔


اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 5 اپریل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جاری کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا تھا کہ تہران کے کئی سرکردہ فوجی لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے ایرانی راجدھانی پر کیا گیا ایک ’بڑا حملہ‘ بتایا۔ اس پوسٹ کے ساتھ 1.07 منٹ کی ایک ویڈیو بھی تھی، جس میں مبینہ طور پر دھماکوں سے آسمان روشن ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یہ پوسٹ مغربی ایشیا میں تیزی سے بڑھ رہی دشمنی اور جنگ کے اگلے مرحلہ کو لے کر بڑھتی بے یقینی کو مزید بڑھانے والی ہے۔