ایران احتجاجی مظاہرہ: پہلی بار سرکاری افسر نے 2000 اموات کا کیا اعتراف، مہلوکین میں مظاہرین اور فوجی جوان شامل!
سرکاری افسر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن بتایا کہ ان اموات کے پیچھے دہشت گردانہ عناصر ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق انہی لوگوں کی وجہ سے مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں۔

ایران میں گزشتہ 2 ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں کئی اموات ہوئی ہیں۔ اموات کی تعداد میں الگ الگ طرح کی خبریں سامنے آئی ہیں، لیکن اب ایک سرکاری افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 2000 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ افسر کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں اب تک کم و بیش 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام مظاہرین اور سیکورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں۔ یہ پہلی بار ہے جب ایرانی حکومت کے کسی افسر نے اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اعتراف کیا ہے۔
یہ جانکاری ایرانی افسر نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کو دی ہے۔ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افسر نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن واضح لفظوں میں کہا کہ ان اموات کے ذمہ دار دہشت گردانہ عناصر ہیں۔ ان کے مطابق انہی لوگوں کی وجہ سے مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں۔ حالانکہ انھوں نے یہ صاف نہیں کیا کہ مہلوکین میں کتنے عام شہری تھے اور کتنے سیکورٹی اہلکار۔
قابل ذکر ہے کہ ایران میں بدامنی کی حالت تب پیدا ہوئی، جب معیشت تباہی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ کی ضرورتوں کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ سے لوگ ناراض ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ 3 سالوں میں ایران کی حکومت کے سامنے سب سے سنگین داخلی بحران ہے۔ یہ حالت ایسے وقت میں بنی ہے جب ایران پہلے ہی بین الاقوامی دباؤ میں ہے، خصوصاً گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ہوئے حملوں کے بعد۔
اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ پیر کی شب انھوں نے اعلان کیا کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اس کی مصنوعات پر امریکہ 25 فیصد درآمد ٹیکس لگائے گا۔ چونکہ ایران دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس لیے ٹرمپ کے فیصلہ کا اثر واضح طور پر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کارروائی سے متعلق امریکہ فوجی قدم اٹھانے جیسے متبادل پر بھی غور کر رہا ہے۔
ایران نے ٹرمپ کے تازہ فیصلہ سے متعلق فی الحال کوئی آفیشیل رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ چین نے اس فیصلہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایران اپنا بیشتر تیل چین کو ہی فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ترکیے، عراق، یو اے ای اور ہندوستان بھی ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ ایران معاملہ پر جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایران کی موجودہ حکومت اپنے آخری دور میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی حکومت اقتدار بچانے کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہے، تو اس کا اختتام قریب ہوتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔