’ایران اب مشرق وسطیٰ کا ہارا ہوا کھلاڑی، آج ہو سکتا ہے بہت بڑا حملہ‘، امریکی صدر ٹرمپ نے پھر دی دھمکی

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر بمباری کا نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو ایک ہفتہ سے جاری اس تنازعہ میں اب تک کا سب سے شدید حملہ ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت تنبیہ دی ہے۔ انہوں نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران نے اسلحہ نہیں ڈالا تو آج اس پر بہت بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ ایسے علاقے اور افراد بھی اب نشانے پر آ سکتے ہیں جنہیں اب تک ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے رویے کی وجہ سے اب ان مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور وہاں کے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کو مشرق وسطیٰ کا ہارا ہوا کھلاڑی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اب مشرق وسطیٰ کا طاقتور ملک نہیں رہا۔ وہ اب ایک ہارنے والا ملک بن چکا ہے۔ جب تک ایران خود سپردگی نہیں کرتا یا اس کی حکومت مکمل طور پر کمزور نہیں ہو جاتی، اس کی صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی۔ ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھی۔


ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اس بیان کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی تھی۔ پزشکیان نے کہا تھا کہ اگر کسی پڑوسی ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہیں کیا جاتا تو ایران بھی ان ممالک پر حملہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ معافی اس لیے مانگی کیونکہ اس پر امریکہ اور اسرائیل مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہی حملوں کے دباؤ میں ایران کو اپنے پڑوسی ممالک سے معافی مانگنی پڑی اور یہ وعدہ کرنا پڑا کہ اب ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

بہرحال، پزشکیان کے مذکورہ بیان کے ایک گھنٹہ بعد ہی حالات دوبارہ کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، بحرین اور قطر میں بھی حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی ایران پر مسلسل فوجی حملے کر رہے ہیں، جواب میں ایران بھی مختلف طریقوں سے فوجی کارروائی کر رہا ہے۔


حقیقت یہی ہے کہ فی الحال جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالر کے نئے اسلحے فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران بغیر کسی شرط کے ہتھیار نہیں ڈالتا، امریکہ اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ امریکی حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر بمباری کا نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جو ایک ہفتہ سے جاری اس تنازعہ میں اب تک کا سب سے شدید حملہ ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔