’ایران نے جنگ کی تیاری کر رکھی ہے‘، انڈرگراؤنڈ ڈرون فیسلٹی کا دورہ کرتے ہوئے فوجی چیف نے کیا متنبہ
ایرانی فوجی سربراہ امیر حاتمی نے سرکاری چینل کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران بنیادی ڈھانچے اور سائنسی سرگرمیوں کی مدد سے پیداواری مراکز کو وسعت دے رہا ہے۔

ایران کے سرکاری چینل نے جمعرات کو ڈرون تیار کرنے والی ایک زیر زمین تنصیب (انڈرگراؤنڈ ڈرون فیسلٹی) کی ویڈیو نشر کی۔ اس ویڈیو میں ملک کے فوجی سربراہ امیر حاتمی کو اس تنصیب کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ حالانکہ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اس ویڈیو کی تاریخ یا مقام کی تصدیق نہیں کی ہے۔ حاتمی نے سرکاری چینل کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران بنیادی ڈھانچے اور سائنسی سرگرمیوں کی مدد سے پیداواری مراکز کو وسعت دے رہا ہے۔
یہ نشریہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی کافی بڑھ چکی ہے۔ زیر زمین تنصیب کو دکھانے کا واضح پیغام یہ ہے کہ ایران اپنے ڈرون پروگرام کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سرگرم اقدامات کر رہا ہے۔ جنگ سے پہلے ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا۔ ان میں کلسٹر گولہ بارود بھی شامل تھا، جسے فضائی دفاعی نظاموں کے لیے روکنا مشکل ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ معلومات اہم ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی ڈرون صنعت بھی کافی ترقی یافتہ تھی۔
جنگ سے پہلے ایران ہر ماہ تقریباً 10,000 ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ان میں شاہد ڈرون نمایاں تھا، جو دھماکہ خیز حملوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ اب زیر زمین تنصیب کو دکھانے سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران روایتی طور پر زمین کی سطح پر قائم پیداواری یونٹوں کے بجائے محفوظ مقامات پر پیداوار کو ترجیح دے رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ فروری میں اس وقت شروع ہوئی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ اس میں بحریہ کو تباہ کرنا، میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی اتحادی طویل عرصہ سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جنہیں ایران ہمیشہ مسترد کرتا آیا ہے۔ اس پس منظر میں زیر زمین ڈرون تنصیب کی ویڈیو ایران کی جانب سے جوابی پیغام معلوم ہوتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ حملوں کے باوجود پیداوار جاری ہے اور اس کی صلاحیتیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔
زیر زمین تنصیب کو دکھانا محض ایک فوجی اقدام نہیں، بلکہ نفسیاتی اور سفارتی پیغام بھی ہے۔ اس کے ذریعہ ایران اپنے عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں محفوظ ہیں۔ ساتھ ہی وہ دشمن ممالک کو خبردار کرتا ہے کہ حملوں کے ذریعہ پیداوار کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ جدید جنگ میں ڈرون سستے اور مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ یوکرین تنازعہ اور دیگر علاقوں میں ان کے استعمال نے ثابت کیا ہے کہ بڑی فوجی طاقتیں بھی ڈرون سے پریشان ہو سکتی ہیں۔ اگر ایران زیر زمین یونٹوں کے ذریعہ پروڈکشن جاری رکھتا ہے تو خطے میں سلامتی کی صورت حال مزید پیچیدہ بنی رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
