’امریکی جنگی طیارہ ایف-35 کا پائلٹ ہمارے قبضہ میں، ریسکیو کرنے پہنچے ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرایا‘، ایران کا دعویٰ
تسنیم نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹر نے بتایا کہ ایف-35 جنگی طیارہ کو گرانے کے بعد پائلٹ نے اجیکٹ کیا اور وہ ایران کی زمین پر اترا۔ اس کے بعد سے پائلٹ کی حالت کو لے کر الگ الگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ آج صبح ایران نے امریکی جنگی طیارہ ایف-35 کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، اور اب اس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف-35 کے پائلٹ کو قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ ایران کی سرکاری میڈیا کے مطابق اس کی فوج نے مزید ایک امریکی جنگی طیارہ کو مار گرایا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ کا بے حد جدید ترین ایف-35 جنگی طیارہ تھا، جسے ایران کی اسلامک ریوولوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم سے نشانہ بنایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پائلٹ کو بچانے آئے امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرس کو بھی مار گرایا ہے۔ سامنے آئی کچھ تصویروں کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے ایک سی-130 طیارہ اور 4 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایران کے اندر بھیجے تھے۔ ایران کی فوج نے انھیں دراندازی بتاتے ہوئے کارروائی کی۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹر نے بتایا کہ ایف-35 جنگی طیارہ کو گرانے کے بعد پائلٹ نے اجیکٹ کیا اور وہ ایران کی زمین پر اترا۔ اس کے بعد سے پائلٹ کی حالت کو لے کر الگ الگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ کچھ رپورٹس کہتی ہیں کہ پائلٹ کو ایرانی فوج نے پکڑ لیا ہے، جبکہ دیگر رپورٹس کے مطابق جنگی طیارہ کے گرنے کے دوران ہوئے زوردار دھماکہ میں پائلٹ کے بچنے کا امکان بہت کم ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی اور آئی آر آئی بی نے بھی کہا کہ طیارہ کے ٹکرانے پر بہت بڑا دھماکہ ہوا، جس سے پائلٹ کے بچنے کی امید کم ہو جاتی ہے۔
اس درمیان ایران کے خاتم الانبیا ملٹری ہیڈکوارٹر کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ دوسرا ایف-35 جنگی طیارہ ہے جسے وسطی ایران کے اوپر مار گرایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کارروائی آئی آر جی سی کے نئے اور جدید ایئرڈیفنس سسٹم سے کیا گیا۔ حالانکہ امریکہ نے ابھی تک ان دعووں پر کوئی آفیشیل رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ یہ جنگی طیارہ ایف-35 کی جگہ ایف-15ای بھی ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ہیلی کاپٹر اور طیارے ایران کے ہوائی علاقہ میں پائلٹ کو ڈھونڈنے اور بچانے کے لیے پہنچے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔