’گلوبل فراڈ‘ کے خلاف انٹرپول نے 97 ممالک میں کی کارروائی، 5811 افراد گرفتار، 293 ملین ڈالر ضبط
انٹرپول کی نگرانی میں چلائے گئے ’آپریشن فرسٹ لائٹ 2026‘ (15 جنوری 2026 تا 30 اپریل 2026) کا مقصد سوشل انجینئرنگ اسکیمز اور ان سے منسلک منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔

دنیا کے 97 ممالک اور خطوں میں چلائے گئے ایک ’عالمی انسداد دھوکہ دہی آپریشن‘ کے تحت 5,811 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں 293 ملین امریکی ڈالر مالیت کے غیر قانونی اثاثے ضبط کیے جانے کی بھی خبریں دی گئی ہیں۔ انٹرپول کی نگرانی میں چلائے گئے ’آپریشن فرسٹ لائٹ 2026‘ (15 جنوری 2026 تا 30 اپریل 2026) کا مقصد سوشل انجینئرنگ اسکیمز اور ان سے منسلک منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ سوشل انجینئرنگ ایک وسیع اصطلاح ہے، جس سے مراد ایسے طریقے ہیں جن میں کسی شخص کے اعتماد کا فائدہ اٹھا کر اس سے رقم یا خفیہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس نوعیت کے فراڈ میں بزنس ای میل کمپرومائز، سیکسٹورشن، رومانوی فراڈ، کسی دوسرے شخص کی شناخت اختیار کر کے دھوکہ دینا اور سرمایہ کاری سے متعلق فراڈ جیسے جرائم شامل ہوتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ان کا تبادلہ کرنے کے بعد شریک ممالک نے 3 ماہ سے زائد عرصے تک مختلف آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان میں بڑے اہداف کے خلاف کارروائیاں، شناخت شدہ مقامات پر چھاپے، بینک اکاؤنٹس اور ورچوئل والیٹس کو بلاک یا منجمد کرنا، انٹرپول نوٹس اور ڈفیوژن جاری کرنے کی درخواستیں، اور انٹرپول کے گلوبل ریپڈ انٹروینشن آف پیمنٹس (آئی-گرپ) نظام کا فعال استعمال شامل تھا۔
دراصل ’آئی-گرپ‘ ایک اسٹاپ پیمنٹ میکانزم ہے، جو روایتی (فیاٹ) اور ورچوئل اثاثوں سے متعلق غیر قانونی مالی لین دین کو فوری طور پر روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ’آپریشن فرسٹ لائٹ 2026‘ کے دوران دنیا بھر میں ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد متاثرین کی شناخت کی گئی۔ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل انجینئرنگ پر مبنی فراڈ اور دھوکہ دہی کس حد تک ایک بڑے بین الاقوامی خطرے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو افراد، کاروباری اداروں اور حکومتوں، سب کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس آپریشن کے دوران 1,52,808 مقدمات کا تجزیہ کیا گیا، 31,014 بینک اکاؤنٹس بلاک کیے گئے، 23,715 مقدمات حل کیے گئے، 15,606 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی اور 99 انٹرپول نوٹس اور ڈفیوژن جاری کیے گئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
